تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 316 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 316

تاریخ احمدیت بھارت 285 جلد اول مکرم چوہدری فقیر محمد صاحب شہید اور محمد اسماعیل صاحب شہید آف و نجواں مکرم چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ و نجواں ضلع گورداسپور اور مکرم محمد اسمعیل صاحب ابن چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صدر جماعت ونجواں۔چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔اس حیثیت سے آپ کو 1939ء میں خلافت جو بلی کے موقع پر لوائے احمدیت کی تیاری میں شمولیت کا موقع ملا۔یہ چوہدری فقیر محمد صاحب کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے بھی ایک بہت یادرکھنے والی بات ہے، بہت عظیم الشان واقعہ ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اصولی ہدایت فرمائی تھی کہ لوائے احمدیت کی تیاری میں صرف صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شامل کیا جائے۔یعنی آغاز سے آخر تک پیج کی کاشت سے لے کر اس کی برداشت تک اور پھر سوت کاتنے تک ہر مرحلے پر صرف صحابہ کا ہاتھ لگے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا کہ اپنی نگرانی میں کروائیں۔چوہدری فقیر محمد صاحب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ارشاد پر اپنے ہاتھ سے کپاس کا بیج بویا، خود پانی دیا، پھر چنا اور صحابیوں سے ہی اس کو دھنوایا۔یعنی اس کو دھنکنے والے بھی صحابہ تلاش کر لئے اور اپنے گھر میں اس کو کتو ایا۔آپ نے کچھ اور روئی دی جسے میری والدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نگرانی میں قادیان کی صحابیات نے کا تا اور پھر ایک بزرگ صحابی حضرت میاں خیر دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ دری باف اور دوسرے صحابہؓ نے مل کر وہ کپڑا تیار کیا۔واقعۂ شہادت: جب ملک تقسیم ہوا تو حضرت خلیفہ المسیح الثان رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ جب تک مرکز اجازت نہ دے اس وقت تک اردگرد کے بعض احمدی دیہات کے افراد اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔ونجواں کے لئے بھی یہی حکم تھا۔چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے بھائی چوہدری علی محمد صاحب نماز تہجد ادا کرنے کے بعد نماز فجر کے لئے ابھی صفیں سیدھی ہی کر رہے تھے کہ۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے حملہ کر دیا اور سب سے پہلے چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت نصیب ہوئی۔بہت سے احمدی زخمی ہوئے ان میں چوہدری صاحب کے بیٹے محمد اسمعیل بھی تھے۔ملٹری والے انہیں دھار یوال ہسپتال لے گئے وہاں سے ڈسچارج ہو کر اسمعیل صاحب قادیان کے لئے