تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 272 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 272

تاریخ احمدیت بھارت 243 جلد اول۔۔۔آخر میں سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس نے کہا کہ باوجود ہمارے بار بار کہنے کے غیر لائسنس شدہ اسلحہ واپس نہیں کیا جا رہا۔ان سے کہا گیا کہ ہمیں علم ہو کہ کہاں اور کس کے پاس ہے تو واپس بھی کریں۔نیز کہا کہ ہمارے متعلق تو یہ بھی مشہور کیا گیا ہے کہ یہاں MINES(سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں۔حالانکہ ہم بار بار اس سے انکار کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ حکومت تلاشی وغیرہ سے اس کے متعلق تسلی کرلے۔اسے علم ہو جائیگا کہ یہ بات غلط ہے۔اس پر سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے کہا، کہ ایسی چیزیں کہیں تلاشی سے بھی ملا کرتی ہیں؟ ہم نے کہا کہ ہمارے جانے کے بعد تو آپ ان کو نکال ہی لیں گے۔اس پر انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ساتھ لے جائیں گے۔ہم نے کہا کہ ہم اس کا کیا جواب دیں۔ہمارا معمولی سامان تو لے جانے نہیں دیا جا تاMINES کو ہم کس طرح لے جائیں گے۔دوران گفتگو میں ملٹری میجر ( جو بعد میں آکر مجلس میں شامل ہو گیا تھا) اور مجسٹریٹ صاحب علاقہ نے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ٹرانسمیٹر ہے۔۔۔۔ان سے کہا گیا کہ ہم حلف کھاتے ہیں اور اس کے متعلق تحریر دینے کو تیار ہیں کہ ہمارے پاس کوئی ٹرانسمیٹر نہیں۔مؤرخہ 8 اکتو برکوسپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس نے جماعت کے ایک نمائندہ سے کہا کہ اگر کوئی واقعہ سرحد پر ہو گیا تو قادیان کے ہر شخص کو ماردیا جائے گا۔اس کے چند روز بعد پاکستان سے میجر آرنسن ایک کنوائے لیکر قادیان آئے۔انہوں نے جماعت کے ذمہ دار عہدیداروں کو صاف لفظوں میں بتایا کہ وہ آپ لوگوں کے پاس یہاں کے افسروں کا ایک پیغام لے کر آئے ہیں۔اور وہ ایک THREAT ( دھمکی ) ہے جو انہوں نے آپ لوگوں کو دی ہے۔یعنی اگر آپ نے یہاں رہنے کا ارادہ کر لیا، وہ آپ کو تباہ کر دیں گے۔مؤرخہ 12 اکتوبر کو کرنل گور بچن سنگھ صاحب نے جماعت احمدیہ کے ایک نمائندہ کو بتایا کہ یہاں کی حکومت آپ کو کہے گی کہ آپ یہاں رہیں۔۔۔۔لیکن صحیح بات یہی ہے کہ گورنمنٹ آپ کو یہاں رہنے نہیں دے گی۔اور آپ کو یہاں سے نکلنا پڑے گا۔اگر آپ نہ نکلیں گے تو آپ پر شدید حملہ ہوگا۔مؤرخہ 13 اکتوبر کو مجسٹریٹ صاحب علاقہ نے ایک احمدی کارکن سے کہا کہ خدا کے لئے قادیان سے چلے جاؤ میں سخت تنگ آ گیا ہوں۔کارکن نے جواب دیا کہ آپ لکھ دیں کہ یہاں سے چلے جاؤ۔مجسٹریٹ صاحب نے جواب دیا آپ کو بہر حال نکلنا پڑے گا۔