تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 237 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 237

جلداول کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: 208 تاریخ احمدیت بھارت ر صبح و شام امن امن کا وظیفہ کرنے والے عاقبت نا اندیش لوگ مجھے بتائیں کہ جس قوم کی کم و بیش بیس ہزار بہو بیٹیاں اور مائیں بہنیں اغیار کے قبضہ میں ہوں اور اغیار بھی وہ جن کا تہذیب و شرافت کی تاریخ میں نام و نشان تک نہ ہو وہ قوم ہجرت کرنے میں حق بجانب ہے! ہرگز نہیں۔45لاکھ مسلمان اگر مقابلہ کا ارادہ کر لیتے تو صورت حالات بالکل مختلف ہوتی۔قادیان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔“ اخبار ”زمیندار“ نے اپنی 25 ستمبر 1947 ء کی اشاعت کے صفحہ اول پر حسب ذیل خبر دی: موجودہ فسادات کی ذمہ داری۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) پر عائد ہوتی ہے -3 وو بیاس کا تمام مغربی علاقہ پاکستان میں شامل ہونا چاہیئے لندن 23 ستمبر۔ڈاکٹر او۔ایچ کے سپیٹ آف لندن سکول آف اکنامکس نے لندن ماسک میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب باؤنڈری کمیشن ایوارڈ یک طرفہ اور لغو تھا۔ڈاکٹر سپیٹ حال ہی میں ہندوستان سے واپس آئے ہیں جہاں وہ حد بندی کمیشن میں قادیان کے نمائندہ کے طور پر پیش ہوئے تھے اور مسلم لیگ کونسل کے غیر سرکاری مشیر تھے۔ڈاکٹر سپیٹ نے کہا کانگرس نے۔۔۔(ایک گروہ ) کو اپنا آلہ کار بنایا اور انہیں لڑائی پر آمادہ کیا۔۔۔۔( شر پسندوں ) اور۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کی انتہائی چالبازیاں اور مسلمانوں کی انتہائی دیانتداری میرے لئے از حد تعجب کا باعث ہوئی۔دارالعوام میں ہنڈرسن اور ہٹلر کے اعلانات نے بھی حالات پر بہت بُرا اثر ڈالا اور۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کو غیر ضروری طور پر دلیر بنادیا۔پنجاب کی تقسیم ہر حالت میں۔۔۔۔(غیر مسلموں) پر اثر انداز ہوتی ہے۔ہر شخص کو ان کی اس حالت پر افسوس ہوتا ہے لیکن خود کرده را چاره نیست آپ نے ہندو سکھوں اور مسلمانوں کے کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔اول الذکر کا کیس سرمایہ داری اور موخر الذکر کا کیس انسانیت پر مبنی تھا۔ڈاکٹر صاحب نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ میں مسلم اکثریت کے علاقوں کی تحصیلوں کو تقسیم کر کے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا۔مزید اچھوتوں ،عیسائیوں اور اینگلو انڈینوں کو ان کی مرضی کے خلاف ہندوستان کے رحم وکرم پر ڈال دیا گیا۔