تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 184
جلد اوّل 168 تاریخ احمدیت بھارت معرکہ موضع کھارا قادیان کے شمال میں ریلوے لائن سے قریباً دو میل کے فاصلہ پر ایک دیہات واقع ہے جس کا نام کھارا ہے یہ گاؤں ایک اونچے ٹیلے پر آباد ہونے کی وجہ سے خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔اس گاؤں کی آبادی ایک ڈیڑھ ہزار افراد پر مشتمل تھی جو کہ اکثر احمدی افراد تھے۔اور کچھ غیر احمدی گھرانے بھی تھے۔یہ گاؤں قادیان سے قربت اور جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے بہت اہم تھا اس لئے اعلان آزادی کے فوراً بعد مفسدہ پردازوں نے اسے احمدیوں اور مسلمانوں سے خالی کروانے کی متعدد بار کوشش کی مگر وہاں ڈیوٹی پر مامور احمدی نوجوانوں کی بروقت کاروائی کی وجہ سے ان کو کامیابی نہیں ملتی تھی۔صوبیدار عبدالغفور صاحب عبدل درویش لکھتے ہیں کہ : وو۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے مختلف۔۔۔(گروہ) قادیان کے اردگر دا پنا گھیرہ مزید تنگ کرتے جا رہے تھے۔ان حالات کے تحت کیپٹن شیر ولی صاحب نے یہ پلان بنایا کہ سابق فوجی جوانوں کو دو دو کی ٹولیوں میں بانٹ دیا جائے اور کہا کہ رات کو مختلف علاقوں میں نکل جائیں اور حملہ کر کے جس قدر نقصان ہو سکے کر کے واپس آجائیں۔مجھے جو ساتھی دیا گیا اس کا نام فضل الہی گجراتی تھا۔فضل الہی نہایت مخلص اور بہادر جوان تھا میں اور فضل الہی سارا دن صلاح مشورہ کرتے رہتے ہم دونوں کے پاس 303 کی رائفلمیں تھیں اور ہم نے رات کو بارہ بجے کے بعد اپنی ڈیوٹی پر کھارا کی جانب نکلنا تھا۔ہم کو معلوم تھا کہ یہ ایک گوریلا جنگ کی قسم کی کاروائی ہے جس میں بہت ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن نماز عشاء کے بعد معلوم ہوا کہ کیپٹن شیر ولی صاحب کی اس گوریلا قسم کی فوجی کاروائی کی تجویز حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے نامنظور فرما دی ہے اور ان دنوں قادیان میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ہی سب سے زیادہ ذمہ دار ہستی تھے۔“ (48) مکرم فضل الہی صاحب گجراتی درویش (متوفی 9 جولائی 1962ء ) سے خاکسار راقم الحروف نے مذکورہ واقعہ اور اس کے علاوہ اس قسم کے اور بہت سے واقعات خود سنے ہیں۔مکرم فضل الہی صاحب اور دوسرے درویش مغرب کی نماز کے بعد عموماً مسجد اقصیٰ قادیان میں بیٹھ جاتے اور اس قسم کے ایمان افروز اور 66