تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 183
تاریخ احمدیت بھارت 167 جلد اول جائے۔مگر یہ نوجوان اپنا فرض ادا کرنے میں کو تا ہی نہیں برتتے تھے اور نہتے احمدیوں کو دیہاتوں سے نکال کر قادیان لاتے رہے۔چوہدری محمد شریف صاحب گجراتی درویش جن کا نام مستقل خدام کی مطبوعہ فہرست میں 188 ویں نمبر پر درج ہے۔اکتوبر 1947ء میں انہیں حکم ملا کہ قادیان کے قریبی گاؤں (موضع بیری) میں چھ احمدی خاندان ہیں۔۔۔۔جنہیں قادیان لانا تھا۔دو خدام کی ڈیوٹی لگی۔حالات انتہائی خطرناک اور مخدوش تھے۔اس وجہ سے ہر ایک کو ایک ایک تھری ناٹ تھری کی رائفل اور دس ، دس راونڈ دیئے گئے۔جب دشمنوں کے محاصرہ کو توڑتے ہوئے اور ان کی نظروں سے بچتے بچاتے رات کی تاریکی میں وہاں پہنچے تو دیکھا سارا گاؤں جل رہا ہے۔ایک طرف کے کچھ مکانات بچے ہوئے تھے۔جن کی طرف بھی آگ بڑھ رہی تھی۔گاؤں کی گلیوں میں کوئی شخص تھا بھی نہیں جس سے ہم پوچھ سکتے۔اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ایک دروازے پر دستک دی۔صاحب مکان کسی طرح بھی دروازہ کھولنے پر آمادہ نہ ہوا۔آخر ہم نے پوچھا کہ فلاں فلاں آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا تم دونوں کون ہو؟ ہم نے بتا یا ہم قادیان سے آئے ہیں۔پھر اس نے کہا کہ میں بھی احمدی ہوں۔بہر حال اس احمدی کی مدد سے سارے احمدی خاندانوں کو ہم بڑی حکمت عملی سے گاؤں سے باہر لائے اور پھر ایک غیر معروف راستے سے قادیان کا رخ کیا۔جب نصف راستہ طے کر چکے تو ایک آدمی کہنے لگا کہ میری بیوی وہاں ہی رہ گئی ہے۔اس شخص پر اتنا خوف طاری تھا کہ وہ واپس جانے کے لئے تیار نہ تھا۔آخر اس کو لے کر گاؤں دوبارہ آئے۔کیونکہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے تاکید کی تھی۔کوئی احمدی عورت دشمن کے ہاتھ نہیں آنی چاہئے خواہ اس کو بچاتے ہوئے شہید ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔دیکھا گھر جل رہا تھا وہ عورت بیمار بے ہوش پڑی تھی ، اسے کندھے پر اٹھایا اور رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِ مُک رَبِ فَا حُفظنی و انصرنی وارحمنی کا ورد کرتے ہوئے دشمنوں کی لگا تار فائرنگ سے بچتے بچاتے بخیریت قادیان پہنچ گئے۔(47)