تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 182 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 182

جلد اوّل 166 تاریخ احمدیت بھارت ย کے آباو اجداد نے بسائے تھے۔ان مواضعات میں بہت بڑی تعداد جماعت احمدیہ کے افراد کی بھی تھی۔ایک معتبر شخصیت مستری محمد دین صاحب درویش جن کا بگول میں سسرال تھا اور حضرت مستری ناظر دین صاحب ان کے خسر تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ تقسیم ملک کے بعد پولیس اور عسکری دستے مذکورہ دیہاتوں میں گشت کرتے اور مسلمانوں کو فوراً نکل جانے کا حکم دیئے۔مگر مسلمان اپنے آبائی گھروں اور جائیدادوں سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں تھے۔ایک دن کا ہندوان پولیس ان دیہاتوں میں گشت کرتی ہوئی آئی اور چند احمدی نوجوانوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔بعد میں علم ہوا کہ ان میں سے سات احمدی نوجوانوں کو بغیر کسی جرم اور وجہ کے نہر کے تغلوال والے پل پر گولی ماری گئی اور لاشیں نہر میں پھینک کر چلے گئے۔چنانچہ تاریخ احمدیت میں مذکور ہے کہ : " 4 ستمبر 1947ء قادیان کے مشرقی جانب مواضعات بگول اور خوشحال پور وغیرہ کے سات احمدی نہر کے پل پر کا ہندووان کی پولیس نے گولی مار کر شہید کر دئے۔(46) اعلان آزادی کے کم و بیش 19 دن کے بعد پولیس کی یہ کا روائی مذکورہ مواضعات اور اس کے گرد ونواح کے لئے خطرے کی گھنٹی کے مترادف تھی۔مسلمانوں اور احمدیوں کو باخبر کیا جارہا تھا کہ ان دیہاتوں کو جلد از جلد خالی کر دو ورنہ تمہارا بھی انہی سات نوجوانوں جیسا حشر ہوگا۔بہر حال قادیان یہ اطلاع پہنچی۔منتظمین نے پہلے مرحلہ پر دیہاتوں سے عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو جلد از جلد نکال کر قادیان لانے کے لئے خدام کا ایک گروپ تشکیل دیا جو دو تین وفود کی شکل میں انہیں تعلیم الاسلام کالج کے احاطہ میں بحفاظت لے آئے۔بوڑھے ، بیمار اور عورتوں کے لئے پیدل چلنا انتہائی دشوار تھا۔ان میں سے بعض راستے میں ہی دم توڑ گئے اور بعض منزل پر پہنچ کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔نفسا نفسی کے اس عالم میں کسی کو صحیح طور پر یہ بھی یاد نہیں کہ کون سا ساتھی راستے میں داغ مفارقت دے گیا۔اور کون سا منزل پر پہنچ کر دم توڑ گیا۔انہی میں سے ایک مکرم سائیں ہیرے شاہ صاحب تھے۔جب وہ تعلیم الاسلام کا لج پہنچے تو فوت ہو گئے۔اس وقت قادیان شہر میں کرفیو نافذ تھا۔انہیں تدفین کے لئے بہشتی مقبرہ قادیان لا نا ممکن نہ تھا۔اس لئے بامر مجبوری بورڈنگ ہاؤس کے احاطہ میں ہی انہیں دفن کر دیا گیا۔جب حالات سازگار ہوئے تو ان کا یادگاری كتبه 773 بہشتی مقبرہ قادیان میں نصب کر دیا گیا۔الغرض خدام دل دہلا دینے والے مناظر دیکھتے۔وہ مناظر جن کو دیکھ کر پتھر سے پتھر دل بھی گھبرا