تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 181 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 181

تاریخ احمدیت بھارت 165 جلد اول بڑا ساٹھ ( ڈانگ ) تھا۔اسکے سہارے دس بارہ فٹ اونچی دیوار کو پھاند کر بے خطر جلتے ہوئے گھر میں داخل ہو گئے۔دروازے توڑ کر کھولے۔ہم سب فوراً اندر داخل ہوئے اور بے ہوش مردوں عورتوں اور بچوں کو باہر نکالا ، پانی پلایا۔جب انہیں ہوش آئی تو وہ ڈر گئے کہ شاید یہ ہمیں قتل کرنے لگے ہیں۔لیکن جب ان کو بتایا گیا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں تو وہ ہمارے گلے لگ گئے اور عورتیں ہمیں بھائی بھائی کہتے ہوئے رونے لگیں اور جان بچانے پر ہمارا شکر یہ ادا کرنے لگیں کہ اللہ تعالیٰ نے بر وقت آپ کو ہم تک پہنچا دیا۔خاکسار کے والد محترم چوہدری محمد شریف احمد گجراتی صاحب درویش نے بتایا کہ ہمیں کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا تھا۔دیہاتوں میں مسلمانوں کے خالی گھروں میں گھس جاتے۔جو بھی کھانے کی چیز یعنی گندم، چنے ہکئی مل جاتی اسے پانی کے ساتھ چبا کر نگل جاتے۔۔۔اس مہم میں منگل کے احمدی نوجوانوں کی شمولیت کا یہ فائدہ تھا کہ وہ اس جنگلی علاقہ کے ان راستوں سے واقف تھے جو بآسانی قادیان پہنچتے تھے۔جب عورتیں بچے بوڑھے۔بیمار قادیان پہنچ گئے تو کیٹری افغاناں اور بیٹ کے دیہاتوں میں احمدی نوجوان باقی رہ گئے۔ان کے ساتھ جو بیتی اس کا حال تاریخ احمدیت میں اس طرح مذکور ہے:۔اسی طرح کیڑی افغاناں نزد بیاس کے مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔ان بیچاروں کو صرف 15 منٹ کا نوٹس دیا گیا کہ گاؤں خالی کر دو۔جب قافلہ قادیان کی طرف روانہ ہوا تو پیچھے سے۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے۔۔۔۔۔ایک زبر دست جتھے نے حملہ کر کے ان کا سامان لوٹ لیا‘ (45) موضع تغلوال میں سات احمدیوں کی شہادت ظلم اور بربریت کا دور جاری تھا۔مفسدہ پردازوں کی خون آشام تلواریں گھاس کی طرح مسلمانوں کی گردنیں کاٹتی چلی جا رہی تھیں۔ان کو روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ستم ظریفی تو یہ تھی کہ وہ بندوقیں اور رائفلیں جو پولیس اور فوجیوں کو فسادیوں کی تلواروں کو روکنے کے لئے دی گئیں تھیں ان سے نکلنے والی گولیاں بھی مسلمانوں اور احمدیوں کے سینوں سے ہی آر پار ہو رہی تھیں۔بخوف طوالت اس کی تفصیل کو چھوڑتے ہوئے صرف اتنا تحریر ہے کہ پنجاب کا شاید ہی کوئی علاقہ ہوگا جس میں حفاظت پر مامور پولیس اور اس وقت کی عسکری قیادت نے مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ نہ بنایا ہو۔اس کی ایک مثال یہ ہے: موضع بگول خوشحال پور بیری گھوڑے واں میں مسلمان صدیوں سے آباد تھے۔اور یہ گاؤں انہیں