تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 170 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 170

جلد اوّل 154 تاریخ احمدیت بھارت موضع ومجواں میں پچاس شہادتیں 1972ء میں خاکسار راقم الحروف مدرسہ احمدیہ قادیان کی آخری کلاس میں زیر تعلیم تھا اور مسجد اقصیٰ میں اعتکاف کرنے کی توفیق ملی۔اسی سال مکرم سردار محمد صاحب درویش مرحوم (متوفی 10 فروری 1982ء) بھی اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے۔اسی دوران انہوں نے ونجواں میں برپا ہونے والی قیامت صغری کے حالات سنائے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے گاؤں ونجواں میں احمدیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں پہنچ گئی تھی۔اور طاعونی احمدی زیادہ تھے۔قرآن مجید، احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق 1902 ء اور اس کے بعد کے سالوں میں ہندوستان اور خاص طور پر پنجاب میں طاعون کی وباء پھیل گئی۔اسی وباء سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو فرمایا جو شخص تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر ہوگا۔اور جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے مجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔“ طاعون کے ایام میں کثرت کے ساتھ لوگ جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔حضرت مسیح موعود طاعون کے زمانہ میں بیعت کرنے والوں کو از راہ ظرافت طاعونی احمدی کے نام سے یاد فرما یا کرتے تھے۔مکرم سردار محمد صاحب درویش نے بتایا کہ ونجواں اور اس کے گردونواح میں احمدی بہت زیادہ تھے۔اور اکثر قادیان آیا کرتے تھے۔ونجواں دو حصوں میں منقسم تھا۔ایک ونجواں کلاں دوسرا ونجواں خورد۔ونجواں کے احمدی احباب کے تعلقات غیر مسلموں سے بہت اچھے تھے۔غیر احمدیوں کی طرف سے مخالفت ہوا کرتی تھی۔جب ہندوستان کی آزادی کا اعلان ہوا۔چند دنوں میں حالات مخدوش ہونے لگے۔افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔آہستہ آہستہ یہ افواہیں حقیقت کی طرف منتقل ہونے لگیں۔اور ہمارے گاؤں کی ناکہ بندی کر دی گئی۔اور یہ بتایا کہ ملٹری اور پولیس نے حفاظت کے لئے ایسا کیا ہے۔اور ہمیں یہ کہا گیا کہ پاکستان بن گیا ہے جلدی سے گاؤں خالی کر کے دریائے راوی کے پار چلے جاؤ۔ہمارا گاؤں دریائے راوی سے دس بارہ میل کے فاصلے پر ہے۔گاؤں والے اس ناگہانی اور غیر متوقع مطالبہ و دھمکی سن کر سکتہ میں آگئے۔نئی تقسیم کے مطابق ونجواں سرحد کے قریب تھا غالباً خالی کروانے کے لئے انہیں