تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 162
جلد اوّل 146 تاریخ احمدیت بھارت کی راجدھانی دہلی بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکی۔ماہ اگست کے آخر میں اس سیلاب نے دہلی کی دیواروں سے ٹکرانا شروع کیا۔اور ماہ ستمبر کے شروع میں دہلی شہر میں داخل ہوکر دہلی کے امن کو تباہ و برباد کر دیا۔انسانیت اور اخلاق کو تباہ کر دینے والا بھیانک نظارہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔گھر گھر لوٹ مار شروع ہوئی۔قتل وغارت کا آغاز ہوا۔۔۔۔۔لوٹ مار کے ذریعہ لاکھوں روپیہ کی جائیداد اور نقدی پر قبضہ کیا گیا۔عبادت گاہیں بے حرمتی کا شکار ہوئیں۔مقدس لٹریچر پھٹے ہوئے ردی کاغذوں کی طرح کوڑا کرکٹ میں شامل کر دیا گیا۔شرافت انسانیت، اخلاق اور عزت سب مٹی میں ملا دیئے گئے۔تجارتیں برباد ہو گئیں صنعتیں ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئیں۔رسل و رسائل اور آمد و رفت کے ذرائع ختم ہو گئے سینکڑوں خاندان تباہ ہو گئے اور ہزاروں افراد دہلی کے اس سیلاب میں کام آئے۔جماعت احمدیہ دہلی کے اکثر احباب گورنمنٹ آف انڈیا کے دفاتر میں کام کر رہے تھے۔۔۔بعض محلے چونکے مسلمانوں سے بالکل خالی کرالئے گئے۔اس لئے ان احمدی دوستوں کو بھی جن کا ارادہ دہلی میں رہائش رکھنے کا تھا مجبوراً ان جگہوں کو چھوڑ کر پاکستان جانا پڑا۔اس طرح ملازمین کے علاوہ دیگر احمدی افراد بھی فسادات کی زد میں آنے کی وجہ سے یا فسادات کو رکتانہ دیکھ کر پاکستان تشریف لے گئے۔اگر چہ مسلمانوں کا قتل طے شدہ اسکیم کے مطابق سارے ہی شہر میں ہوا۔لیکن فساد کا زیادہ زورنئی دہلی قرول باغ ، پہاڑ گنج سبزی منڈی اور دریا گنج کے علاقوں میں رہا بعض دوست شہید بھی ہوئے۔چنانچہ اس وقت تک جن احباب کی شہادت کی خبر ہمیں ملی ہیں وہ حسب ذیل ہیں: -1 مکرم و محترم با بونذیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ دہلی۔آپ 17 ستمبر کو کرفیو ہٹنے کے دوران صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب ابن حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے سے ملنے دریا گنج تشریف لے جارہے تھے کہ راستہ طے کرتے ہوئے چند۔۔۔۔(شرپسندوں) نے انہیں گھیر لیا۔اور شہید کر دیا۔انا للہ و انا الیه راجعون۔وقوعہ کے وقت چونکہ خاکسار ( نامہ نگار ) بھی ہمراہ تھا اس لئے تھانہ پہنچ کر بذریعہ پولیس اس جگہ کی تلاشی لی گئی۔مگر کچھ علم نہ ہو سکا۔کیونکہ ان دنوں شدید قتل عام ہورہا تھا۔اور پولیس ،ملٹری اور۔۔۔( شر پسند ) مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے ایک ہو چکے تھے۔اس لئے پولیس نے بھی زیادہ توجہ نہ دی۔احتیا تا ارون ہسپتال اور دوسرے ہسپتالوں کو بھی دیکھا گیا۔مگر کچھ بھی پتہ نہیں چل سکا۔کافی دنوں کے بعد بعض ہندوؤں کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ بابو صاحب کو اسی وقت شہید