تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 158
جلد اوّل 142 تاریخ احمدیت بھارت بن چکا ہوتا۔اسی وقت طرفہ العین میں مجھ میں اپنی شکستہ ہمت اور دہشت زدہ حواس پر قابو پانے کی طاقت بجلی کی طرح عود کر آئی۔اور میں اپنی پوری طاقت سے دوڑ کر ایک لاری پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔اگر چہ جس جگہ میں چڑھا تھا وہ تکلیف دہ اور غیر محفوظ تھی یعنی ڈرائیور کے پیچھے جہاں لاری کا فالتو پہیہ رکھا جاتا ہے۔میرا اوپر کا نصف جسم باہر فضا میں تھا اور کسی وقت بھی دشمن کی بے تحاشہ گولیوں سے چھلنی ہو جا تا لیکن کیمپ میں تنہارہ کر کتے کی موت مرنے کی نسبت یہ جگہ میرے لئے بہشت بریں سے کم نہ تھی۔ابھی تک ہماری لاریاں اسی وسیع میدان میں چل رہی تھیں۔جہاں سے ہم گئے تھے اور گولیاں برابر سنسناتی ہوئی ہمارے سروں پر سے گزر رہی تھیں۔پناہ گزین بے چارے ایسے سہمے بیٹھے تھے جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔تھوڑی دیر کے بعد ہم میدان سے نکل کر بازار کی ایک گلی میں داخل ہو گئے۔عجیب بات تھی یہاں لوگ ہمیں دیکھ کر بے تحاشہ ادھر اُدھر بھاگنے لگے جیسے ہم ان پر حملہ کرنے والے تھے۔بازار میں سے نکل کر ہم ریلوے اسٹیشن کے ساتھ والی سڑک پر آگئے۔کافی دور تک سڑک خالی اور غیر آباد تھی۔کہیں کہیں بے چارے تباہ شدہ مسلمانوں کی ٹوٹی اور لوٹی ہوئی دکا نہیں دیکھنے میں آتی تھیں۔کچھ دور جا کر ہماری لاریاں ایک دم رک گئیں۔ہم حیران ہوئے کہ یہ رکنے کی کونسی جگہ تھی۔مگر جب میری نظر سڑک کے سامنے پڑی تو یہ دیکھ کر میرا خون منجمد ہونے لگا۔کیونکہ ہمارا راستہ لوہے کے بڑے بڑے پہیہ رکھ کر بند کیا ہوا تھا۔اور سڑک کی دونوں جانب زمین پر۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) برین گن تھامے ہوئے اوندھے منہ لیٹے ہوئے تھے۔انہوں نے انگلی برین گن کی لبلبی پر رکھی ہوئی تھی۔وہ حکم کے منتظر تھے اور نزدیک ہی جنوب کی طرف ایک دو منزلہ عمارت کی چھت پر کئی مسلح۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) لوہے کی ٹوپیاں پہنے ہوئے سوراخوں سے ہمیں تاک رہے تھے۔نامعلوم کتنی دیر ہم وہاں ان کے رحم و کرم پر پڑے رہے۔اسی اثناء میں سفید لباس میں ملبوس بے شمار۔۔۔۔( مفسدہ پرداز) ہمارے ارد گرد جمع ہونے شروع ہوئے۔ہر ایک نے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ان کی آنکھوں سے غیظ و غضب اور وحشت کے شرارے پھوٹ رہے تھے۔بائیں طرف ایک طویل و عریض میدان تھا جو ان لوگوں سے اس قدر بھرا ہوا تھا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔دائیں طرف ایک لمبی چوڑی گلی میں جو ہجوم سے آئی پڑی تھی۔آس پاس سڑک کے کنارے دکانیں تھیں جن کی چھتوں پر بکثرت لوگ چڑھے ہوئے تھے۔ایک۔۔۔۔( شر پسند ) حوالدار جو اس خوفناک ڈرامے کا ہیرو تھا اور جو