تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 155
تاریخ احمدیت بھارت 139 جلد اوّل اور کرب سے ”ہائے ہائے کرتی جارہی تھی۔چند قدم چل کر بیٹھ جاتی اور ماتھے پر ہاتھ مار کر کہتی ”ہائے ربا ! میں مری“ اور پھوٹ پھوٹ کر روتی۔اسکا رونا اس قدر دل سوز تھا کہ پتھر دل بھی موم ہو جا تا۔اس عورت کی یہ درد ناک حالت دیکھ کر یقین کیجئے کلیجہ پھٹنے لگا۔بے چاری جب دیکھتی کہ اسکے ساتھی کچھ دور نکل گئے تو پھر چل پڑتی لیکن بادل ناخواستہ۔کاش اس عورت کی ہم کوئی مدد کرنے کے لائق ہوتے ! خدا خدا کر کے شام پانچ بجے ہم بٹالہ کے حدود میں داخل ہو گئے۔اس جگہ پہنچ کر قادیان دیکھنے کی آرزو پھر دل میں انگڑائیاں لینے لگی۔لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ تقدیر ہم پر مسکرا رہی تھی اور ہماری یہ آرزو دل ہی دل میں مر جانے والی تھی۔ابھی ہم بٹالہ شہر سے کوئی ایک میل باہر ہی تھے کہ انڈین پولیس اور ملٹری حکام نے ہمارے قافلہ کو رکنے کا حکم دیا۔فورا تعمیل ہوئی۔ہم نے بھی اس موقعہ کو غنیمت جانا اور اپنی تھکان دور کرنے اور تازہ دم ہونے کے لئے لاریوں سے اُتر کر ادھر اُدھر ٹہلنے لگے۔دائیں بائیں عمارتیں کھنڈرات کی صورت میں نظر آ رہی تھیں۔فیکٹریاں اور ان کی ٹوٹی ہوئی مشینیں بھی دکھائی دے رہی تھیں۔ہم سب چپ چاپ دیر تک ان کھنڈرات میں گھوم رہے تھے۔ریکا یک مشرق کی طرف سے ہمارے کچھ آدمی ایک کمرہ نما عمارت کے گرد جمع ہونے شروع ہوئے۔میں بھی دیکھا دیکھی وہاں پہنچ گیا۔اُف ! کیسا مکروہ منظر مجھے دیکھنا پڑا۔ایک عورت کی نصف لاش کٹی ہوئی پڑی تھی۔لاش بالکل تازہ تھی۔میں تو زیادہ دیر وہاں ٹھہر نہ سکا۔سر میں چکر آنے لگے اور آنکھوں میں اندھیرا۔فوراً واپس اپنی لاری میں آکر بیٹھ گیا اور ان وحشیانہ تصورات سے قریب تھا کہ میں دیوانہ ہو جاتا۔ہمیں وہاں رکے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی۔سورج غروب ہونے کو تھا۔دلوں میں خوف و اضطراب کی لہر دوڑ نے لگی۔جوں جوں وقت گزرتا گیا ہمارا اضطراب بھی اسی مقدار سے بڑھتا گیا۔اس وقت جب سورج کی سنہری کر نیں آنکھوں سے اوجھل ہوئیں اور تاریکی فضا پر چھا رہی تھی۔مطلع پر ستارے ہماری مظلومیت پر آنسو بہانے کے لئے بے نقاب ہو رہے تھے۔تب عین اس وقت خبر آئی کہ رات یہیں پر گزاری جائے گی۔ہم بالکل نہتے تھے۔اور نہتے ہونے کے احساس نے ہمیں بری طرح گھائل کیا ہوا تھا۔حکم حاکم مرگ مفاجات ناچار ہمیں رات وہیں گزارنی پڑی۔لیکن اس بھیا نک ماحول میں بھلا نیند کس کو آسکتی تھی۔بڑی مشکل سے اٹھتے بیٹھتے ہم نے رات گزار دی۔صبح کو آٹھ بجے (مورخہ 3 /اکتوبر 1947 ء۔ناقل ) خبر آئی کہ چونکہ بارش کی وجہ سے قادیان کا