تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 154
جلد اوّل 138 تاریخ احمدیت بھارت محمد صادق صاحب سلمی ، خان عبد الرحمن خاں صاحب ایجنٹ اور خاکسار بھی شامل تھے۔ہم میں سے اکثر حفاظت مرکز کے لئے جارہے تھے۔بعض اپنے رشتہ داروں کو لانے کے لئے گئے تھے۔2 اکتوبر 1947ء کی صبح کی نماز کے بعد حضور نے اس مختصر سے قافلہ کو بعض ضروری ہدایات دینے اور صبر و استقلال کی تلقین کرنے کے بعد فرمایا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اس قافلہ کے ساتھ کوئی خطرناک حادثہ پیش آنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو۔اس کے بعد حضور نے لمبی اور پرسوز دعا کرائی۔وہ دعا تھی یا عرش کو لرزا دینے والا زلزلہ ! ہماری ہچکیاں بندھ گئیں اور آہ و بکا سے آسمان گونج اٹھا۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کے ساتھ ہمارا یہ قافلہ منزل مقصود کی طرف روانہ ہوا۔کوئی دس بجے کے قریب ہم پاکستان کی سرحد کو عبور کر کے ہندوستان کی سرحد میں داخل ہو گئے۔یہاں ملٹری چوکی پر ہمارا قافلہ رک گیا۔کچھ دیر کے بعد پوچھ کچھ اور تفتیش ہونے لگی۔تسلی پانے کے بعد انہوں نے ہمیں روانگی کا حکم دیا۔یہ دو پہر کا وقت تھا۔آسمان پر سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ہر طرف سکوت طاری تھا۔ہماری لاریاں چالیس، پینتالیس میل کی رفتار سے جارہی تھیں۔سڑک کے دونوں اطراف حد نظر تک ویران ہی ویران دکھائی دے رہی تھیں۔مستقبل کے عجیب و غریب تصورات آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔اور دل میں قادیان پہنچنے کی خواہش مچل رہی تھی۔غرض اس قسم کے اور بہت سے تخیلات ہمارے ذہن کو گھیرے ہوئے تھے۔کہ اچانک نا قابل برداشت بد بو ، ایسی بد بوجس سے ناک سڑنے لگے اور دماغ پھٹنے لگے محسوس ہوئی۔لاری سے باہر جو نظر پڑی تو یہ دیکھ کر روح کانپ اٹھی کہ سڑک کے دونوں اطراف کچھ فاصلہ پر کھیتوں میں انسانی لاشوں کو بڑے بڑے بدنما گدھ اور کتے نوچ رہے تھے۔اُف ! یہ نہایت بھیانک اور تکلیف دہ منظر تھا کہ دیکھتے ہی ہم پر دہشت طاری ہو گئی اور کافی دیر تک ہم بے حس وحرکت ہو کر رہ گئے۔ابھی ہماری بدحواسی دور نہ ہونے پائی تھی کہ ہماری نظر مسلمان پناہ گزینوں کے ایک قافلہ پر پڑی جو پاکستان کی طرف جارہا تھا۔اس جگہ کچھ وقفہ کے لئے ہمارا قافلہ رکا تاہم اپنے مظلوم اور بدنصیب بھائیوں کی خستہ حالت پر چار آنسو بہائیں۔یہ لوگ کچھ تو بیل گاڑیوں پر سوار اور کچھ پیادہ تھے۔اس قافلہ میں سب سے زیادہ دلخراش اور جگر سوز منظر جو میں نے دیکھا وہ ایک عورت کی انتہائی بے چارگی اور مظلومیت کا تھا۔اس کو دیکھ کر میری آنکھوں سے بے تحاشہ آنسوڈھلک رہے تھے۔وہ بے چاری پیدل جارہی تھی۔اس کے پاؤں کافی متورم تھے۔پیٹ پھولا ہوا تھا۔چہرہ بھی سوجا ہوا تھا۔پاؤں میں شدید درد کی وجہ سے لنگڑا رہی تھی۔درد