تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 153
تاریخ احمدیت بھارت 137 جلد اول ماردینا۔بے شک یہ فقرہ خان صاحب نے لوگوں کو ہنسانے کے لئے کہا تھا مگر اس سے بھی ان کی زندہ دلی، دلیری اور بے خوفی کا پتہ لگتا تھا۔بہشتی مقبرہ میں ہماری ڈیوٹی تقریباً ایک ماہ تک رہی۔اس دوران کھانے کا کوئی بندو بست نہیں تھا۔خدام نے کسی نہ کسی طرح گندم کی ایک بوری وہاں پہنچادی تھی اب اس کی گھنگنیاں ابال ابال کر کھاتے یا پھر منگل کی طرف سے کماد کے گنے توڑ کر لاتے اور چوستے رہتے۔کماد ابھی کچا تھا اور اس طرح گھنگنیوں میں سکرین ڈالی جاتی تھی اس لئے بہت سے لوگوں کو پیچس کا مرض ہو گیا اور بخار چڑھنے شروع ہو گئے۔خود مجھے بھی پندرہ میں یوم تک پیچس کی تکلیف رہی۔جب قادیان پر حملہ ہوا تو ہم کو صورت حال کا کچھ علم نہیں تھا کہ قادیان میں کیا ہو رہا ہے ہم تو پگل کے منتظر تھے۔بعد میں معلوم ہوا کہ مسجد اقصیٰ کے پاس عورتوں کو نکالتے ہوئے ہمارے دو آدمی۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی گولیوں سے شہید ہو گئے۔بڑے حملہ کے بعد کچھ نہ کچھ کنٹرول ہوا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب نے سیکورٹی کونسل میں قادیان پر۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں کے حملوں کا سوال اٹھایا تھا اور ہند سر کار نے اپنی بدنامی سے ڈر کر کچھ نہ کچھ کنٹرول کیا تو پھر قادیان میں کچھ امن ہوا اور۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے جتھے قادیان کے گردونواح سے روپوش ہونے شروع ہوئے۔(35) 2 اور 3 اکتوبر 1947 ء کے چشم دید حالات مؤرخہ 2 /اکتوبر 1947 ء قادیان سے عورتوں ، معذوروں اور بچوں کو لیجانے کے لئے لاہور سے ایک کنوائے روانہ ہوا۔اس کنوائے کو قادیان جانے سے روک دیا گیا۔مکرم خان محمد عیسی جان صاحب اس کنوائے میں خود شامل تھے۔موصوف اپنے چشم دید حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔” ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز (رضی اللہ عنہ )۔۔۔نے حکومت پاکستان کی اجازت سے ایک مرتبہ بتیس لاریاں کرایہ پر لے کر قادیان بھجوائیں۔ان لاریوں کے ساتھ پچاس احمدی تھے۔جن میں کوئٹہ کے احباب میں سے ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب شہید ، ڈاکٹر میجر منیر احمد صاحب خالد، جناب شیخ محمد اقبال صاحب، چوہدری منور علی صاحب درویش ، حوالدار محمد ایوب صاحب درویش، میاں بشیر احمد صاحب ایم۔اے ، میاں احمد دین صاحب بٹ ، میاں کریم بخش صاحب، مرزا