تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 127 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 127

تاریخ احمدیت بھارت 111 جلد اول لکھے ہوئے اس خط کو پڑھ کر مجھے بھی حیرت ہوئی۔لیکن اس خط کے بعض بہت ہی غیر متوقع نتائج نکلے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط (حضرت) خلیفہ ثانی کے ملاحظے میں بھی آیا ہوگا جسے پڑھ کر وہ ضرور فکرمند ہوئے ہوں گے۔وہ مجھے اور میری طبیعت کو خوب جانتے تھے اس لئے عین ممکن ہے انہیں خیال آیا ہو کہ میں کہیں جان بوجھ کر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر بلا سبب موت کو دعوت نہ دے دوں چنانچہ ہوا یہ کہ ایک مہینے کے اندراندر مجھے قادیان سے لاہور بلوالیا گیا۔مجھے خوب یاد ہے کہ اس فیصلے سے مجھے کتنا دکھ ہوا تھا۔میرا پہلا رد عمل تو یہ تھا کہ مجھے قادیان سے واپس اس لئے بلایا گیا ہے کہ شاید میرے بزرگوں کو مجھ میں کوئی خامی نظر آئی ہے۔جس کی مجھے سزا دی جا رہی ہے یا پھر انہوں نے مجھے اپنے مفوضہ فرائض کی ادائیگی کا اہل نہیں سمجھا۔بہر حال میری زندگی کے یہ نہایت تکلیف دہ لمحات تھے۔“ خدام الاحمدیہ کی تنظیم کو اب خود حفاظتی کی خاصی ٹریننگ مل چکی تھی یہی وجہ ہے کہ تقسیم ملک کے وقت اس تنظیم نے بے شمار مسلمانوں کی جانیں بچائیں۔لیکن غور کریں تو اصل میں یہ کارنامہ ( حضرت ) خلیفہ ثانی کی دور اندیش نگاہوں ہی کا مرہون منت تھا۔پنجاب کے دیہات میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا۔پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے قافلوں پر حملے جاری تھے۔لوٹ مار اور قتل وغارت کا بازار گرم تھا۔جو مسلمان حملہ آوروں کے ہتھے چڑھ جاتے بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر دیئے جاتے۔یہ احمدی رضا کاروں ہی کا دل گردہ تھا کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر قادیان کے قرب و جوار میں تیس تیس میل دور تک واقع دیہات کے دورے کرتے اور وہاں کے رہنے والے مسلمانوں کو حملہ آوروں سے بچانے کی اپنی سی کوشش میں اپنی نیندیں حرام کر رہے تھے۔پھر یہ بھی ہوا کہ اتنے بڑے ہنگامے میں کوئی بھوکوں نہیں مرنے پایا۔قادیان جو محض ہیں ہزار نفوس پر مشتمل ایک چھوٹا سا قصبہ تھا یہاں اب اسی ہزار سے زائد پناہ گزین جمع تھے۔ان کو خوراک مہیا کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔فرماتے ہیں: ” میرے والد محترم ( حضرت ) خلیفہ ثانی نے پہلے سے حکم دے دیا تھا کہ ایک جلسہ سالانہ کی بجائے دو تین جلسوں کے لئے گندم خرید کر سٹاک کر لی جائے انہیں اندیشہ تھا کہ پناہ گزینوں کا ایک سیلاب آنے والا ہے جن کے لئے خوراک کی ضرورت ہوگی۔لیکن اب الٹی گنگا بہہ رہی تھی یعنی اب گندم بھرے ہوئے ٹرک قادیان آنے کی بجائے قادیان سے امرتسر جیسے بڑے بڑے شہروں کی طرف جا رہے تھے۔ان دنوں مسلمان اخبارات نے بڑی سچائی سے اس بر وقت امداد کا کھل کر اعتراف کیا جو جماعت