تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 112 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 112

جلداول ضبط کر لی گئی۔96 96 تاریخ احمدیت بھارت قادیان میں بلا کسی جائز وجہ کے کرفیوں گا دیا گیا جو شروع میں 4 بجے شام سے لے کر 6 بجے صبح تک رہتا تھا مگر بعد میں وسیع کر دیا گیا اور پھر تو یہ حال تھا کہ پولیس جب چاہتی تھی کسی مصلحت سے دن کے اوقات میں بھی کر فیول گا دیتی تھی مگر ہندو سکھ عملاً آزاد ہوتے تھے۔(13) 22 ستمبر 1947 پولیس اور ملٹری نے حضرت امیر المومنین خلیفہ الحی الثانی ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز کے مکانات اور دفتر اور خاکسار مرزا بشیر احمد کے مکان کی تلاشی لی۔اور یہ تلاشی صبح 6 بجے سے لے کر دن کے گیارہ بجے تک جاری رہی اور ہمارے مکانات کے تمام حصوں اور ملحقہ رستوں میں مسلح پولیس اور ملٹری کا پہرہ لگا دیا گیا۔تلاشی میں ٹرنکوں ، بیٹیوں اور الماریوں وغیرہ کے قفل تو ڑ تو ڑ کر ہر چیز کوغور سے دیکھا گیا اور بعض کمروں کے فرشوں کو اکھیڑ اکھیڑ کر بھی تسلی کی گئی کہ وہاں کوئی قابل اعتراض چیز تو دہائی ہوئی نہیں۔پولیس اور ملٹری جیسا کہ قاعدہ ہے اپنی تلاشی دینے کے بغیر اور زنانہ مکانوں میں پردہ کرانے کے بغیر جس حصہ میں چاہتی تھی گھس جاتی تھی۔مگر کوئی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں کر سکی۔البتہ لائیسنس والا ہتھیار جو بھی نظر آیا اسے اٹھا کر لے گئی۔چنانچہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ایک شارٹ گن، خان محمد احمد خان کی ایک بائیس (22) بور رائفل اور عزیز مرزا حمید احمد کا ایک پستول لائیسنس دکھانے کے باوجود ابھی تک واپس نہیں کیا گیا۔23 ستمبر 1947ء حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے حکم کے ماتحت خاکسار مرزا بشیر احمد عزیز میجر داؤد احمد کی اسکورٹ میں قادیان سے روانہ ہو کر لاہور آ گیا (14)۔میرے پیچھے حضرت صاحب کے ارشاد کے ماتحت مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے مقامی امیر مقرر ہوئے۔24 ستمبر 1947ء عزیز مرزا ناصر احمد سلمہ ایم۔اے پرنسپل تعلیم الاسلام کالج قادیان اور حضرت امیر المومنین ایده (رضی اللہ عنہ ) کے بڑے صاحبزادے کے مکان ”النصرۃ واقعہ دارالانوار قادیان کی تلاشی لی گئی مگر کوئی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی۔