تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 92
جلد اول 76 تاریخ احمدیت بھارت ہو ئیں۔بہت سے مسلمان جن میں شیر خوار، کم عمر بچے اور بوڑھی عورتیں اور مرد شامل تھے، آتشین اسلحہ برچھیوں۔۔۔۔سے شدید زخمی ہوئے۔اگر چه مشرقی پنجاب کے دوسرے مسلمانوں کی طرح احمد یوں کو بھی اس قیامت صغریٰ سے دو چار ہونا پڑا اور واہگہ سے لیکر دہلی تک کا علاقہ ان کے لئے میدان کرب و بلا بن گیا۔مگر خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرت اور حفاظت کا ہاتھ ہر جگہ ان کے لئے کارفرمارہا۔چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ (چند مستثنیات کے سوا) جہاں خدا کے فضل و کرم سے احمدی خواتین کا دامن عصمت و حرمت ،منگ انسانیت ، ظالموں اور بد سگالوں کی چیرہ دستیوں سے بالکل محفوظ رہا وہاں جماعت احمدیہ کا جانی نقصان بھی نسبتاً بہت ہی کم ہوا۔اکثر و بیشتر جماعتیں پیدل یا فوجی ٹرکوں یا گاڑیوں میں بحفاظت پاکستان پہنچیں۔بعض جماعتوں (مثلاً کپورتھلہ وغیرہ) کی نسبت افواہ پھیل گئی کہ ان کے اکثر افراد مار دیئے گئے ہیں مگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ صرف ایک احمدی شہید ہوا ہے ( اور قادیان اس کے مضافات ہر وعہ اور دہلی وغیرہ کے سوا) چند ہی ایسی جماعتیں ہوں گی جس کے دو تین حد چار سے زیادہ احمدیوں کو سانحہ شہادت پیش آیا ہو (21) قادیان سے ”لوائے احمدیت کالا ہور منتقل کیا جانا قبل اس کے کہ ہم آگے رونما ہونے والے حالات پر روشنی ڈالیں یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ کس طرح قادیان سے ”لوائے احمدیت ، اور قادیان میں موجود لوگوں کی ذاتی امانتوں، دفاتر کا عملہ، ریکار ڈ اور دستاویزات لا ہور منتقل کئے گئے۔سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی ہجرت کے تیسرے دن یعنی 3 ستمبر 1947ء کو حضرت مرزا عزیز احمد صاحب نائب ناظر اعلیٰ قادیان نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے امیر مقامی قادیان کی خصوصی ہدایت پر " لوائے احمدیت کا بکس لاہور بھجوادیا۔یہ یادگار بکس مکرم مرزا عبد الغنی صاحب محاسب صدر انجمن احمد یہ قادیان سے لاہور لائے تھے۔(22)