تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 80 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 80

جلد اوّل 64 تاریخ احمدیت بھارت کے ایام میں خدمت کا موقعہ دیا۔ان ایام میں بعض دوست میرے پاس آتے تھے کہ ہمیں زیادہ سامان بھیجوانے کی اجازت دی جائے۔میں انہیں سمجھا تا تھا کہ دیکھو اس وقت حال یہ ہے کہ خطرہ بالکل قریب آگیا ہے اور ٹرکوں کی تعداد تھوڑی ہے۔اب چاہو تو احمدی عورتوں اور بچوں کی جان بچالو اور چاہو تو اپنا سامان محفوظ کر لو۔اکثر دوست میرے اشارہ کو سمجھ جاتے تھے۔بعض کو تاہ بین لوگ دل برداشتہ بھی نظر آتے تھے۔لیکن میں مجبور تھا کہ بہر حال مومنوں کی جانوں اور خصوصاً عورتوں کی جانوں کو ( جن کی جانوں کے ساتھ ان کے ناموس کا سوال بھی وابستہ تھا) سامان پر مقدم کروں۔آخر ہر ٹرک کی گنجائش اور بوجھ اٹھانے کی طاقت محدود ہوتی ہے۔اگر ہم ایک ٹرک پر سامان زیادہ لاد دیں گے تو لازماً سواریاں کم بیٹھ سکمینگی اور اگر سامان کم ہوگا تو لازماسواریوں کے لئے زیادہ گنجائش نکل آئے گی۔ہماری اس تدبیر کا نتیجہ عملی صورت میں بھی ظاہر ہے کہ مشرقی پنجاب کی تمام دوسری جگہوں کی نسبت قادیان میں جانی نقصان نسبتی طور پر بہت کم ہوا ہے اور اغوا کے کیس تو خدا کے فضل سے بہت ہی کم ہوئے ہیں بلکہ جہاں تک میرا اعلم ہے قادیان کے احمدی مہاجرین میں سے کوئی ایک عورت بھی اغواشدہ نہیں ہے جو ظاہری لحاظ سے ( کیونکہ اصل حفاظت تو خدا کی ہے ) اسی تد بیر کا نتیجہ تھا کہ اکثر عورتوں کو خطرہ سے پہلے نکال لیا گیا۔اور جو تعداد حملہ کے وقت قادیان میں موجود تھی وہ اتنی محدود تھی کہ خطرہ پیدا ہوتے ہی ہمارے آدمی انہیں فوراً سمیٹ کر محفوظ جگہوں میں لے آئے ورنہ اگر زیادہ تعداد ہوتی تو انہیں اتنے قلیل نوٹس پر سمیٹنا ناممکن ہوتا اور ان کا اتنی محدود جگہ میں سمانا بھی ناممکن تھا۔‘ (16) احمدی خواتین کی حفاظت کا شاندار کارنامہ احمدی خواتین کو قادیان سے بحفاظت پاکستان پہنچا دینا سید المصلح الموعود کا ایک شاندار پہنچادینا نا کارنامہ ہے۔اس عظیم الشان اور بے مثال کارنامہ کا ایک جامع خا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے قلم سے سطور بالا میں لکھا جا چکا ہے۔جناب خواجہ غلام نبی صاحب سابق ایڈیٹر الفضل“ اس کے بعض حیرت انگیز پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی ذاتی واقفیت اور چشمد ید حالات کی بنا پر تحریر کرتے ہیں :۔