تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 93 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 93

۹۳ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَانْتُمْ عَالِفُونَ في المساجد رسورة البقرة : آیت (۱۸) اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم تم سے یہ امید رکھتے ہیں کہ تم مساجد میں اعتکاف بیٹھا کرو۔دنیا کے تمام تعلقات سے منہ موڑ کر خالصہ خدا کے لیے اپنی زندگی کے جو میں گھنٹے چند ایام کے لیے گزارو تا کہ وقف کی روح کو زندہ کیا جائے۔اور چونکہ نبی کریم صل اللہ علیہ کی نے فرمایا ہے کہ میرے لیے ساری زمین کو مسجد بنایا گیا ہے۔اس لیے وانْتُمْ عَالِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ کے معنے ہوئے کہ میری خاطر تمھیں خطہ خطہ زمین میں بطور واقف کچھ وقت گزارنا پڑے گا کیونکہ جیسا کہیں نے پہلے بھی اشارہ بتایا تھا خانہ کعبہ یا بیت اللہ ایک مرکزی نقطہ ہے اور میں تعلیم دی گئی ہے کہ تمھیں اس کے اخلال بھی بنانے پڑیں گے لیٹی سی کی نقل میں انہی مقاصد کے حصول کے لیئے اسی قسم کی پاکیزگی اور طہارت کو پیدا کرنے کے لیے جگہ جگہ پر ایسے مراکز کھولنے پڑیں گے جو بیت اللہ کے حق ہوں گے اور ان کے قیام کی غرض وہی ہو گی جو بیت اللہ کے قیام کی غرض ہے اللہ نعلی نے یہاں یہ بتا یا کہ انتحر عا لفون في المساجد، ہر اس جگہ پر جہاں استریم ما تقولی کی بنیادوں پر بیت اللہ کا خلق قائم کرے گی ، تمھیں بطور واقف کے بیٹھنا پڑے گا ورنہ یہ مقصد پورا نہیں ہوگا۔اس کے متعلق بھی نہیں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔لیکن جھے خیال آیا کہ اگرانہ کم کی تعمیرکا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ واقفین اسم لینے ہر مقام اور قبائل کے جو واقف ہیں وہ مرکز یا اس کے خلق میں آکر جمع ہوں اور وہاں مٹھیں تو وقف اور ہجرت میں بڑی مشابہت پائی جاتی ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صرف مکہ سے ہی نہیں بلکہ دوسرے علاقوں سے بھی قبائل کے بعض نمایند سے اپنے علاقہ کو چھوڑ کے اور اپنے تقبیلے کو چھوڑ کر دینہ میں آگے دھونی رما کے بیٹھنے گئے تھے اور پھر میں بیٹھے رہے۔ان کی جو ہجرت تھی اپنی قوم یا اپنے میں را ملک سے وہ اس قسم کی نہیں تھی جو مکہ سے ہجرت تھی، بلکہ اس قسم کی تھی جو ایک واقف کی ہجرت ہوتی ہے جو اپنا علاقہ چھوڑ کے، اپنی رشتہ داریاں چھوڑ کے اپنے گھر بار کو چھوڑ کے، اپنی جائداد کر چھوڑ کے خدا کے لیے مرکز میں آجاتا ہے اور پھر مرکز کی ہدایت کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں کام کرتا ہے۔مثلاً مین میں ایک قبیلہ اشعر بتین کا تھا ہائے ابو موسی شوری بڑے مشہور بزرگ صحابی ہیں۔اُن کے ساتھ اسی نفوس بیرت کرکے مدینہ میں آگئے اور اسی طرح اور بہت سے قبائل میں اپنے میں جن کا ذکر آتا ہے کہ نبی کرم صلی اللہ علہ وسلم کی محبت سے استفادہ کے لیے وہ ہر پنہاں آگئے تھے جن میں سے ایک