تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 94
۹۴ ابو ہریرہ بھی ہیں ، رضی اللہ عنہ۔چودھواں مقصد والتركع السجود میں بیان ہوا تھا اور بتایا گیا تھا اس کے ذریعہ سے اقوام عالم ذات باری اور صفات باری کا کامل عرفان حاصل کریں گی۔اور اس کے نتیجہ میں اطاعت، فرمانبرداری، ایثار اور فدائیت اور قربانی کے وہ نمونے دکھائیں گی کہ جن کی مثال دنیا میں کوئی اور تقریب پی نہ کر سکے گا اور نہیں دیکھ کر دنیا حیرت میں روب جائے گی۔یہ مقصد بھی نبی اکرم صلی الہ علیہ وسلم کے زریعہ سے پورا ہوا اور آپ کی قوت قدسیہ کے بہتریں نہ صرف آپ کے زمانہ میں جبکہ بعد میں بھی ہر صدی میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو اس مقصد کو پورا کرنے والے تھے۔اس کی تفصیل میں بھی یا اس وقت جانا نہیں چاہتا۔اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی تو جب میں ذمہ داریوں کی طرف دوستوں کو توجہ دلاؤں گا، اس وقت میں اس کی تفصیل میں جاؤں گا انشاء الله پندرھواں مقصد بلدا امینا میں بیان ہوا تھا اور وعدہ دیا گیا تھا کہ الہ تعالی اس گھر کو دنیا کے ظالمانہ حملوں سے اپنی پناہ میں رکھے گا اور اس کے مثانے کی ہر کوشش نا کام کر دی جائے گی، بلکہ حمل اور تباہ و برباد ہوں گے اور اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ ہم نے مکہ کی حفاظت ایک خاص غرض کے ماتحت کی ہے اور بتایا تھا مگہ کی صفات اس لیے کی جائے گی تا دنیا پر یہ بات واضح کریں کہ میں نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کو تم اس مقام سے مبعوث کرنا چاہتے ہیں وہ ہماری حفاظت میں ہوگا۔اور نا دنیا یہ جان لے کہ جو شریعت ہم یہاں نازل کرنا چاہتے ہیں اس کے بھی ہم ہی محافظ ہوں گئے۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خا کی پناہ میں ہوتا۔اور اس نبی معصوم پر جو شرعیت نازل ہوئی ہے اس کا پوری طرح الہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا۔خانہ کعبہ کی حفاظت میں ان ہر دو کی حفاظت کا وعدہ دیا گیا تھا۔چنانچہ قرآن کریم نے یہ دعوی کیا کہ جو وعدہ کیا گیا تھا اس وعدہ کے مصداق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم ہیں اور فرمایا وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔اس آیت کی ابتدائیں ہوتی ہے آیا تھا الرَّسُولُ بلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيكَ مِنْ رَبَّكَ سورة المائده، آیت را "