تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 82
AY نماز کے اجرا اپنے اندر ادب، خاکساری اور انکساری کا اظہار رکھتے ہیں۔قیام میں نمازی دست بستہ کھڑا ہوتا ہے ، جیسا کہ ایک غلام اپنے آقا اور بادشاہ کے سامنے طریق ادب سے کھڑا ہوتا ہے۔رکوع میں انسان انگار کے ساتھ جھک جاتا ہے۔سب سے بڑا انکسار ستجدہ میں ہے ، جو بہت ہی عاجزی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔مراة الحقائق جلد سوم مجموع نما ولی احمد مصبور شاه مرتبه مولوی محمد فضل صاحب جنگونی صفحه ۱۵ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ خسر مایا کہ ہم اپنے فضل سے نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کے متبعین میں ایک ایسی جماعت پیدا کرتے رہیں گے ، جو انکسار اور تذلل اور فروتنی اور تواضع کے مقام کو مضبوطی سے پکڑے اور اس تذلل از نگسار کے نتیجہ میں اللہ تعالٰی اس امن کے قیام کے امکانات پیدا کرے گا جو آ منا میں بیان ہوئے ہیں اور جس کی تعلیم قرآن کریم نے تفصیل سے ہمیں دی ہے۔یا د رکھنا چاہئیے کہ حقیقی عبادت راہ محبت و ایثار اور (۲) تنذل و انکسار ہر دو کے خمیر سے پرورش پاتی ہے، لیکن کبھی محبت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اور کبھی تذلل اور فرونی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کا حسن اور اس کا احسان جلوہ فگن ہوتا ہے تو انسان کا دل اپنے رب کی محبت سے بھر جاتا ہے اور ایک عاشق زار کی طرح دہ اس کی ہر آواز پر بینک کہتا ہے۔وہ اس کے گرد گھوڑتا ہے۔وہ نینی کا لبادہ بین کر اسی میں کھو جاتا ہے اور اس کے اپنے وجود پر کلینہ ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی اس کے رب کی طرف سے اسے عطا ہوتی ہے۔مگر دنیا اسے نہیں پہچانتی۔اور وہ اس کی کچھ پیر و ابھی نہیں کرتا۔لیکن جب خدا تعالے کی عظمت اور جلال کا حلوہ اس پر ظا ہر ہوتا ہے تو اس کا دل خوف و رجا اور امیدیم سے لبریز ہو جاتا ہے۔عظمت اللی اور جلال الہی کے اس جلوہ کے بعد اس کی اپنی کوئی بزرگی اور عظمت باقی نہیں رہتی۔