تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 32

اور ہر اک ریت ہے کے مطابق مری زندگیاں رنگے اور اس بن جاؤ گےاور جب تم خیرات برگه و صرف اس وقت ان فرار ہوگے تو تم اس قابل جوا و گے کہ تمام بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکو تمھارے ذریعہ سے تمام اقوام اور ہر زمانہ کے لوگ نیوی اور دینی فوائد حاصل کریں گے جب تک تم اس مقام کو نہیں پاتے ساری دنیا اور دنیا کے ہر حصہ میں بسنے والی اقوام تم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں اور جب تک تم سے ساری اقوام عالم فائدہ نائٹی سکین اس وقت تک نہیں کیا جا سکے گاکہ تم کو اخرجت الناس، تمام دنیا کی بھلائی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔اور جب تک تھا سے متعلق یہ نہیں کہا جاسکے گا کہ تمہیں تمام دنیا کی بھلائی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ان تو تک وہ وعدہ نہیں پورا ہوگا کہ ان اول بيت وضع اللنَّاس اس واسطے امنوا تم اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے قرآنی شریعیت پر ایمان لاٹھ، اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو تم خیر گنت بن جاؤ گے۔پس نزول قرآن کے ذریعہ وضع النا میں کا مقصد حاصل ہوا اللہ تعالیٰ سورہ آل عمران میں فرماتا ہے کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عن المنكر وتؤمنون باللهِ وَلَوْا مَنْ أَهْل الكتب لَكَانَ خَيْرُ الهُمُ دال عمران : سیلی اس آیت میں در اصل یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ابراہیمی پیشگوئی اور وعدہ کے مطابق امت محمدیہ بنی نوع انسانی فائدہ کے لیے پیدا کر دی گئی ہے اور ایک گفت ایسی تیار ہو چکی ہے جو اخرجَتْ لِلنَّاسِ ہے۔وہ تمام بنی نوع انسان کے نائٹ کے لیے پیدا کی گئی ہے اور اس کی دلیل یہاں یہ دی ہے کہ یہ خیر امت ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ہے تمام دنیا کی بھلائی کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔اور یہ دلیل کیوں ہے کہ اگر آپ تمام دنیا کی شریعتوں پر غور کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ تمام شریعتیں اس قوم کی استعداد کے مطابق نازل ہوتی رہی ہیں جن قوم کی طرف ان کو نازل کیا جاتا رہا ہے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی طرف جو شریعت بھیجی گئی اس شریعت سے ہمیں پتہ لت ہے کہ حضرت نوح علیہ سلام کی قوم کی روحانی تعدادی اور صلاحیتیں کیا تھیں۔جو شریعیت حضرت موسی علیہ السلام کی طرف نازل ہوئی اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی قوم بنی اسرائیل کی روحانی صلاحیتیں اور استعدادیں کی تھیں۔باقی سارے انبیاء کی قوموں کا بھی یہی حال تھا۔ہر حال اللہ تعالی