تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 131
ربَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا منهم کا یہ مفہوم ہے کہ اے ابراہیم اور اسمعیل کے رب جن کے ذریعہ سے تو نے از سر نو تعمیہ کروائی ہے اور اپنے معزز گھر کی حرمت کا اعلان کیا ہے تو اس بیت حرام میں رہنے والوں میں سے ایک عظیم روح کو کھڑا کر۔اس کو اپنی ربوبیت میں لے اُسے مصطفی اور مجتبی بنا اور اپنے انتہائی قریب سے اس کو نواز اور ایک کامل اور مکمل شریعت دیگر اپنے رسول اور کامل مقتدا کی حیثیت میں اُسے دنیا کی طرف بھیج - تاوہ بنی نوع انسان کو اللہ رب العالمین کی طرف بلائے اور توحید خالص پر انہیں قائم کرے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا۔اوربنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے دنیامیں یہ منادی کروائی کہ إنَّمَا أُمِرْتُ أنْ أعْبُدَ رَبِّ هَذِهِ الْبَلْدَ وَ الَّذِي حَرَّمَهَا - ابراہیم اور اسمیل علیہما السلام کی دعاقبول ہوئی اور مجھے رب العالمین نے حکم دیا ہے کہمیں اس بل حرام ، اس بیت اشد کے رب کی عبادت کو اپنے کمال تک پہنچا کر ایک عبد کامل کی شکل میں ظاہر ہوکر بنی نوع انسان کو اللہ ، رب کعبہ ، درب بلد حرام کی طرف بلاؤں۔اس ہستی کی طرف روکنا کل شی ء ) جو کامل قدرتوں والی ہے۔اور تمام اسمائے حسنیٰ سے متصف ہے جو چاہتی ہے وہ ہستی کرتی ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقابل نہیں ٹھہرسکتی۔اور مجھےحکم دیا گیا ہے کہمیں امسیٹوں کے گروہ ہمیں شامل ہو کر ایک مسلم کا کامل نمونہ دنیا کے سامنے پیش کروں۔غرض وہاں ابراہیم اور ان کی نسل کے منہ سے یہ دعا نکلوائی اور قرآن کی یم نے اسے محفوظ کیا اور یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے دنیامیں یہ منادی کروائی کہ اس بلد حرام کے رب کی عبادت کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور ابراہیمی دعاؤں کے نتیج میں میں آج دنیا کی ہدایت کے لیے کھڑا ہوں۔دوسری اور تیسری اور چوتھی بات جو یہاں بیان ہوئی تھی، وهُ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ابْتِكَ وَيُعَلِمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ میں بیان ہوئی تھی یعنی ایک عید کامل ظاہر ہو گا اور عید کامل کے ظہور کے ساتھ دنیا آیات بنیات کا ایک لامتناہی سلسلہ مشاہدہ کرنے لگے گی۔وہ آنکتب کی تعلیم دے گا اور جو احکام دہ اس کا مل اور مکمل کتاب سے بیان کرے گا اُن کی حکمت بھی ساتھ ہی ساتھ انہیں بنائے گا۔دیکھو ر ان اتلو القران میں یہ تینوں باتیں پائی جاتی ہیں۔آیات کا بیان کرنا۔کتاب کا سکھانا اور حکمت اور وجوہ کے متعلق تفصیلی روشنی ڈالنا۔یہ تینوں چیزیں جو اس دعا میں شامل تھیں وہ آن اتلو القران میں پانی جاتی ہیں کیونکہ قرآن کریم کے محاورہ میں تلاوت کا لفظ آیات کے بیان کرنے اور ان کے سیکھنے سکھانے اور ان سے اثر قبول کرنے