تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 124
۱۲۴ قوتوں کا منبع ہے، مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں او استعدا میں عطاکر کہیں برائیوں کو یہ چوروں اور نیکیوں حقیقت قائم مواد تو اس معنے میں پہلے استغفار ہے اور بعد میں تو بہ توبہ استغفار کے بغیر ممکن ہی نہیں۔اس مضمون پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسّلام نے بڑی سبط سے روشنی ڈالی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں:۔"استغفار اور تو بہ دو چیزیں ہیں، ایک وجہ سے استغفارکو تو بہ پر تقدم ہے، کیونکہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے اور تو یہ اپنے قدروں پر کھڑا ہوتا ہے۔عادت اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالی سے مرد چاہے گا تو نہ مائے ایک قوت دیدے گا۔اور پھر اس قوت کے بعد انسان اپنے پاؤں پرکھڑا ہو جائیگا اور نیکیوں کو کرنے کے لیے اس میں ایک قوت پیدا ہوجائے گی جس کا نام توبوا الیه ہے۔اس لیے طبعی طور پر بھی بی ترتیب ہے۔غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لیے رکھتا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا سے استمداد چاہے۔سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا کیا کر سکے گا۔توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے اگر استغفارنہ ہو تو یقیناً یاد رکھو کہ وہ کی قوت مرواتی ہے۔پھر اگراس طرح ان تلفا کروگے اور پھر تو بہ کروگے تو تیجہ یہ ہوگا مَعَكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ یہ مسمى سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفارا اور توبہ کرو گے تو اپنے مراتب پا لو گے۔ہر ایک شخص کے لیے ایک دائرہ ہے جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے " الملفوظات جلد ۲ صفحه ۶۸- ۶۹ - الحكم بلد نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی منشاء صف ) عید ۶ س آپ نے فرمایا کہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے جس حد تک تمہارے لیے ممکن ہے روحانی رنعمتوں کو حاصلی له سورة هود : آیت ۴