تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 125 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 125

١٣٥ کرو اور استغفار اور توبہ کے ذریعہ سے ان کو حاصل کرلو۔دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : - ارژ اس تمام تفصیل سے ظاہر ہے کہ استغفار کی درخواست کے اصل معنے یہی ہیں کہ وہ اس لیے نہیں ہوتی کہ کوئی حق فوت ہو گیا ہے ، بلکہ اس خواہش سے ہوتی ہے کہ کوئی حق نوت نہ ہو ، اور انسانی فطرت اپنے تئیں کمزور دیکھ کر طبعاً خدا سے قافات طلب کرتی ہے۔۔۔۔۔۔اور یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان اعلیٰ درجہ کے مقام عصمت پر اور مرتبہ شفاعت پر تب ہی پہنچ سکتا ہے کہ جب اپنی کمزوری کے روکنے کے لیے اور نیز دوسروں کو گناہ کی زہر سے نجات دینے کے لیے ہرم اور ہر آن دعا مانگتا رہتا ہے اور تفرعات سے خدا تعالے کی طاقت اپنی طرف۔کھینچتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اس طاقت سے دوسروں کو بھی حصہ ملے ، جو بوسیلہ ایمان اس سے پیوند پیدا کرتے ہیں۔معصوم انسان کو خدا سے طاقت طلب کرنے کی اس لیے ضرورت ہے کہ انسانی فطرت اپنی ذات ہیں تو کوئی کمال نہیں رکھتی بلکہ ہردم خدا سے کمال پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی قوت نہیں رکھتی، بلکہ ہر دم خدا سے قوت پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی کامل روشنی نہیں رکھتی، بلکہ خدا سے اس پر روشنی اترتی ہے۔اس میں اصل رانہ یہ ہے کہ کامل فطرت کو صرف ایک کشش دی جاتی ہے تا کہ وہ طاقت بال کو اپنی طرف کھینچ سکے۔مگر طاقت کا خزانہ محض خدا کی ذات ہے۔اسی خزانہ سے فرشتے بھی اپنے لیے طاقت کھینچتے ہیں اور ایسا ہی انسان کا مل بھی اسی سر شمیہ طاقت سے عبودیت کی نالی کے ذریعہ سے عصمت اور فصل کی طاقت کھینچتا ہے۔۔۔۔پس استغفارکیا چیز ہے ، یہ اس آلہ کی ماند ہے