تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 129

تحيل عَلَى رَسُولِي الكَر ثمي تشهد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- کل قریباً سارا دن شدید در دسر کا دورہ رہا اور اس وقت میں کافی ضعف محسوس کر رہا ہوئی لیکن میں چاہتا ہوں کہ جن میں مقاصد کے متعلق رجن کا تعلق بہیت اللہ سے ہے میں نے سلسلہ خطبات شروع کیا ہے اس کو جاری رکھوں اور جو آخری غرض اور مقصد بیان ہونا رہ گیا تھا اس کے متعلق آج کے خطبہ میں اپنے خیالات کا اظہار کروں۔سیلیس تعمیر بیت اللہ کی سویس غرض رَبَّنَا وَابْعَتْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَ يُعلمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة : ۱۳۰) میں بیان ہوئی تھی اور اس آیت میں بتایا گیا تھا کہ ایک ایسانہی یہاں مبہوت کیا جائے گا جو قیامت تک زندہ رہے گا اور اپنے فون کے ذریعہ اور خانہ روحانی کی وجہ سے اس پر کسی موت وارد نہ ہوگی ہمیشہ کی زندگی اس کو عطا کی جائے گی اور اسے ایک ایسی شریعیت دی جائے گی جو ہمیشہ رہنے والی ہوگی، منسوخ نہیں ہوگی کیونکہ وہ آنکتاب را یک کامل اور مکمل شرعیت ) ہوگی اور ایک ایسی امت پیدا کی جائے گی جو بصیرت پر قائم ہوگی، حکمت اُسے سمجھائی جائے گی اور دلائل اُسے عطا کیے جائیں گے اور زندہ خدا اور زندہ نبی اور زندہ شریعیت سے اس کا تعلق ہوگا۔یہ مقصد بھی نبی کریم صل للہ علیہ وسلم کی بہشت سے پورا ہوا ہے جیسا کہ خود قرآن کریم نے اس کا دعوی کیا ہے، جس پر میں ابھی روشنی ڈالوں گا بحضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔دیکھو ابراہیم علیہ اسلام نے بھی ایک دعا کی تھی کہ اس کی اولاد میں سے عرب میں