تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 92

علوم کرتے اور پختہ ہوجاتے اپنے دین پر اور تفقہ فی الدین کو اصل کرتے، پھر وہ واپس جاتے اور دوسروں کو جاکر دہ سکھاتے تھے۔چنانچہ بہت تفصیل کے ساتھ ان وفود کا ذکر ہماری تاریخ میں پایا جاتا ہے، جو اس غرض کے لیے اور اس حکم کے پورا کرنے کے لیے مدینہ میں ہی اکرم صلی الہ عیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور دین سیکھنے کے لیے وہاں ہوتے تھے ایک گروہ کے بعد دوسراگروہ پھر میرا گردہ، پھر ایک اور گرد و آجاتا تھا۔ایک تسلسل جاری تھا اور تسلسل میں دین کی بقا کے سامان رکھے گئے تھے مثال تاریخ میں بتاتی ہے کہ ایک وقت میں بحران سے چودہ نمائند ے آئے تھے اور اسی طرح حضر موت دین سے استی نمایند سے آئے تھے اور اسی طرح ستراتی افراد تشتمل ایک وفد بنو تمیم کا آیا دین سیکھنے کے لیے اورید و تو وبقوا المدينة مد و يتعلمون القران والدين تخرجوا ان قو مهم دین کیا، پچرانی بِالْمَدِينَةِ ثُمَّ نظر لا قوم میں گئے اور انھیں دین سکھلایا۔میں نے یہ چند مثالیں صرف اس لیے بیان کی ہیں تا کہ ہماری جماعتوں پر حقیقت واضح ہو جائے کہ اب تو وہ شاید ایک نمایندہ بھی نہیں دیتیں ان کلاسز کے لیے جو بیاں جاری کی جاتی ہیں۔لیکن اس طرح کا مر نہیں بنے گا بلکہ کافی تعداد میلوگوں کو بیاں آنا پڑے گا۔تب ہم دین اسلام کی خدمت کما حقہ، کر سکتے ہیں۔ہرحال اس کی تفصیل تو میں اس وقت بتاؤں گا ، جب نہیں ان مقاصد پر بطور وعدہ کے بیان کو ختم کر چکوں گا اوران وعدوں پر بطور ذمہ داری کے اپنے بیان کو شروع کروں گا کیونکہ یہ ساری ذمہ داریاں ہیں جو مسلمانوں پر اور خصوصاً اس وقت میں ہم احمدیوں پر عاید ہوتی ہیں۔تیرھواں مقصد والشرک میں بیان ہوا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ سے ایک ایسی قوم ہیا کی جانے گی جو اپنی زندگی خدا تعالی کی راہ میں وقت کرنے والی ہوگی اور واقفین کے اس گروہ میں قوم قوم اور ملک کے نمائیے شامل ہونگے۔یہ غرض بھی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے پوری ہوئی ہے، اس سے پہلے اس کے پورا ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا، کیونکہ قوم قوم کے نمایندے وہاں آہی نہ سکتے تھے۔مکہ کا نہ انھیں علم تھا نہ اس کی محبت ان لوگوں کے دلوں میں بھی ہیں نے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم نے ان مقاصد کو پورا کیا ہے