تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 76 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 76

เ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اب نیا میں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ تمام دنیا کے مذاہب کی دین اور روحانیت کے میدان میں کشتی ممکن ہوگئی ہے۔تمام اقوام اپنے نمایندوں کو ایک جگہ جمع کر کے دوسرے ندا می سے مقابلہ کر سکتے ہیں اور ہم کار حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے دین کے میدان میں سب دنیا کے مذاہب کو پکارا ، میقابل آپ کے زمانہ میں شروع ہوگیا۔گذشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پرمختلف دعوت ہائے فیصلہ میں نے بھی دنیا کے سامنے رکھی تھیں اور گر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی سفر یورپ کی ، تو میں ارادہ رکھتا ہوں کہ وہاں کے ملکوں میں جو عیسائی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ان دعوت ہائے فیصلہ کو دہراؤں اور امن اور صلح کی فضا میں اسلام کے مقابلہ میں انھیں دعوت دوں کہ اپنی حقانیت کو راگروہ اپنے مذاہب کو حق سمجھتے ہیں ثابت کریں اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ اگروہ میدان فیصلہ میں آئے تو اللہ تھا۔لہ یسے سامان پیدا کرے گا کہ دنیا کے سامنے انہیں اپنی شکست کو تسلیم کرنا پڑے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔تو آٹھواں مقصد ساری دنیا کی اقوام کو وحدت کے سلسلہ میں مسلک کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کام کے پورا کرنے کا وعدہ دیا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی صاف کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس مقصد کے حصول کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے اوراس کے تم میں جماعت احمدیہ پر بڑی بی ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں جن کی طرف مجھے اور آپ سب کو توجہ دینی چاہیئے۔تو آٹھواں مقصد مثابة میں بیان ہوا ہے اور ظاہر ہے یہ مقصد سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ کسی اور نبی کو ایسی شرعیت نہیں دی گئی جو متفق القوم نہ ہو جس کا تعلق صرف اس کی قوم اور اس کے زمانہ کے ساتھ نہ ہو۔صرف آنحضرت صلی اللہ علہ سلم کی ذات ہے جن کو ایک ایسی شریعت اللہ تعالی کی حر سے عطا ہوئی جو انسان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے اور میں کا تعلق دنیا کی ہر قوم اور قیامت تک کے ہر زمانہ کے ساتھ ہے اور وہ وعدے تو محمدرسول اللہ صل اللہعلیہ وسلم کوخدا تعالی کی طرف سے دیئے گئے وہ اپنے وقت پر پورے ہوتے رہے ہیں۔یہ وعدہ جو ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ا کے پورا ہونے کا وقت مسیح موعود کا زمانہ ہے اور اس کے پورا کرنے کی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔