تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 77
" نوان مقصد جس کا ان آیات میں ذکر ہے وہ افضا کے لفظ میں بیان ہوا ہے۔مشائبہ میں بین الاقوامی تعلقات کے نبیو بنیادوں پیش کم ہونے کا ذکر تھا اور بین الاقوامی رشتہ اخوت کے استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی امن کے قیام اور قوموں کے باہمی تعلقات میں تسکین قلب کے سامان پیدا کیے جائیں اور ذرائع دنیا کیے جائیں۔وعدہ یہ دیا گیا تھا کہ مشابہ کا وعدہ بھی پورا ہوگا اوراس کے لیے جو ضرور سی چیز ہے بین الاقوامی امن کا ماحول پیدا کیا جائے۔وہ والا بھی پورا ہوگیا اورمحمد رسول اللہ صلی الہ علیہ سلم کے ذریعہ دنیا کو جو شرعیت دی جائے گی اس میں بین الاقوامی اس کے قیام کی تعلیم دی جائے گی اور وعدہ دیا گیا تھاکہ حقیقی امن دنیا کو صرف اس تعلیم پر عمل کرنے سے ہل سکتا ہے، جو تعلیم کہ ملک سے مبعوث ہونے والا خاتم النبیین دنیا کے سامنے پیش کرے گا کیونکہ اس آخری شریعیت میں تمام فطری قوتوں اور استعدادوں کی صحیح نشونما کے سامان رکھے جائیں گے اور انسانی عقل ان ہدایات سے تسلی پائے گی اور اس انسان کا د اطمینان حاصل کرے گا۔امن عالم کے قیام کے تعلق تو تعلیم قرآن کریم میں پائی جاتی ہے وہ بڑی متصل ہے اور اس وقت ہیں اُس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔اس کے متعلق حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالی عنہ کی کتاب احمدیت یعنی حقیقی اسلام اور انعام وائیں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ان کتب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے کہ پانچ بنیادی باتیں امن عالم کے قیام کے لیے قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں، جب تک ان اصلوں پر دنیا انہیں کرے گی دنیا کو مینار رامی علی پوریا نہیں ہوگی۔پہلے لیگ آف نیشنز ناکام ہوئی۔پھر اب جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں یو، این، او نا کامی کی طرف جارہی ہے اوراس کی بڑی وجہ یایوں کہنا چاہیئے کہ ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے بین الاقوامی امن کے قیام کے لیے دنیا کو جو تعلیم دی تھی یہ لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے اور اس کو نہیں اپنایا۔ان اصولوں کو ٹھکرانے کے بہتی ہیں وہ نا کامیون نہ دیکھتے چلے جارہے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ اس بات کا ذکر کیا ہے کہ صرف قرآن کریم کے بنائے ہوئے اصول پر ایک بین الاقوامی معاہدہ کی بجائے ایک ہی وقت میں دنیا دو قسم کے معاہدے کر لیتی ہے۔ایک تعلق رکھتے ہیں تمام اقوام کے ساتھ۔اور ایک وہ معادے ہوتے ہی ہوئی اور یو پی پی پی رہتی ہیں اور چونکہ انہوں میں اُن کا پاؤں ہوتا ہے اس لیے وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔خود یو، این، او میں جو معاہدہ ہوا اس کے اندر ہی ایک اور معابر مدغم