تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 72
بنانے والے ہیں کہ جاں دنیا کی تما منتشر و پراگندہ اقوام پر سے جمع ہونگی اوران کے لیے کوئی اور جگہ باقی نہ رہے گی جہاں سے اُنھیں اپنے رب کے ثواب کے حصول کی امید اور توقع ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس نابض کو گورا کرنے کے لیے الہ تعال نے محمد رسول الله لا اله علی کو مبعوث فرمایا اور ساری شہریت کو نازل کیا اور جس طرح ابتدا میں خانہ کعبہ انسانیت کا مرکز تھا کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت ایک ہی نبی تھا او ایک ہی قوم تھی اور ایک ہی شریعیت تھی، ابھی انسان دنیامیں نہیں کھیلا تھا اور قوم قومیں تم نہیں ہوا تھا، تو ابتدامیں خانہ کعبہ ہی انسانیت کا مرکز تھا روحانی طور پر۔اس کے بعد آدم علیہ السّلام کی نسل دنیا میں کھیلنی شروع ہوئی اور دور دراز کے علاقوں میں آباد ہوگئی۔آپس کے تعلقات قائم نہ رہے۔ان کی روحانی ترقی اور نشو ونما کے لیے اللہ تعالی نے ہر قوم میں علیہ وعلیہ وہی اور رسول بھیجنے شروع کیسے اور اس طرح روحانی طور پر وہ ایک قوم نہ رہے بلہ منتشر ہو گئے اور تفرقہ پڑ گیا اور نسل آدم قوم قوم میں بٹ گئی۔تو میں طرح ابتدا میں خانہ کعبہ انسانیت کا مرکز تھا، آخری اور اکمل دور میں بھی خدا کا یہ گھر وحدت انسانی کا مرکز بنا مقصد تھا اور انبیاء کے سردارمحمد ول اللہ صلی الہ علیہ سلم کی بہشت کے لیے بیت اللہ کو منتخب کیا گیا تا مدت انسانی کا نبی اور وحدت انسانی کا قبلہ دونوں ایک جگہ جمع ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہیں اس وقت حضور کے دو اقتباسات جو اس مضمون سے تعلق رکھتے ہیں اپنے دوستوں کوگناتا ہوں جھنور فرماتے ہیں:۔ابتدائے زمانہ میں انسان تھوڑے تھے اور اس تعداد سے بھی کم تر تھے جو ان کو ایک قوم کہا جائے، اس لیے ان کے لیے صرف ایک کتاب کافی تھی پھر عباس کے جب دنیا میں انسان کھیل گئے اور ہر ایک حقہ زمین کے باشندوں کا ایک قوم بن گئی اور بباعث دور دراز مسافتوں کے ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے بالکل بے خبر ہوگئی ایسے زمانوں میں خدا تعالے کی حکمت اور مصلحت نے تقاضا فرما یا کہ ایک