تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 63
کا خوف نہ کرو۔اس طرح اللہ تعالے نے دوسری جگہ فرمایا ان المُتَّقِينَ فِي بَنْتِ وَعُيُونٍ نِ ادْخُلُوهَا بِسَيْهِ مِنِينَ (سورة إِنَّ امبر ۳۹ مشتقی لوگ یقینا با خوں اور شتوں والے مقام میں داخل ہوں گے انہیں کیا جائے گا کہ تم سلامتی کے ساتھ بے پروف۔۔خطر ان میں داخل ہو جاؤ تو یہ اس ہے جو قرآن کریم کے ذریعہ سے اس کے کامل متبعین کو منتا ہے۔فرمایا تھا من دَخَلَه كَانَ امنا عین نہی الفاظ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صل اللہ علیہ سلم کو فرمائے اور فرمایا کہ ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا لند خُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إن شاء الله امين رسورة الفتح، آیت ۳۸ کہ تم مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے اور وہ وعدہ پورا ہوا۔ایک تو اس کی ظاہری تفسیر کے اللہ تعالی نے فتح مکہ کے سامان پیدا کیے اور غیر جنگ کے کفار مکہ نے انہوں نے اپنی کی مریں اسلام کو مٹانے کے لیے صرف کر دی تھیں ہتھیار ڈال دیئے اور فرشتوں نے جن کا آسمان سے نزول ہوا اُن کے دلوں میں اس قدر خوف پیدا کر دیا کہ لڑائی کی ان کو بہت ہیں نہ پڑی۔لیکن اس کے دوسرے منے یہ بھی ہں کہ تم ہی وہ اُمت ہو جو اس وعدہ کو پورا کرنے والی ہو جو حضت ابراہیم علیہ اسلام سے ان الفاظ میں کیا گیا تھا کہ و من کے خله نمان امنا جو اس میں داخل ہوگا وہ اس میں آجائے گا تمھارے ذریعہ سے وہ وعدہ پورا ہوا میں اس کی وضاحت کر چکا ہوں کہ یہ تمام وعدے وہ ہیں جن کا تعلق تمام بنی نوع انسان سے ہے، تقویم اور یہ زمانہ کے ساتھ کسی خاص قوم یا کسی خاص زمانہ کے ساتھ یہ مخصوص نہیں ہیں۔تر من محلہ مکان اینا کے معنی یہ ہوئے کہ خواہ دنیا کی کسی قوم سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو یا کسی زمانہ میں میں رہنے والا کیوں نہ ہو جو شخص بھی مناسب تو خلوص نیت سے ادا کرے گا وہ نار جہنم سے محفوظ ہو جائے گا۔چنانچہ حدیث میں ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ بی کریم صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا من کم فَلَمْ يُرْكَ وَلَمْ نَفْسُنَّ فَلَهُ مَا تَخْدام من ذنبه ریا د رکھیں کہ پرنٹ اور یوفیت اور یفسق اور يَفْسِقُ دونوں طرح عربی زبان میں یہ الفاظ بولے جاتے ہیں) که جو شخص گندی او نقش باتوں سے پر ہیز کرے لینے جو شخص حج کرے اور مناسک کی ادا کرتے ہوئے فحش بود می سے بہتا ہے