تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 64
جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا اندرونہ اس قدر پاکیزہ ہوکہ تخت بات اسکی زبان پر آہی نہ سکتی ہو یہ مطلب نہیں کہ وہ باقی گیارہا کچھ دن تو یتیم کی کفش کلامی کرتا ہے صرف ان دونوں رفت سے بچے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ میں کا اندرونہ ناپاک ہوچکا ہو اور گندگی اس کے سینہ سے اتنی دور ہو چکی ہو نفش بات ، گندی بات اس کے منہ پر ہی نہ سکے۔اور جو حق اور صلاح کے طریق سے خروج نہ کرے یعنی شرعی حدود سے باہر نہ ہو ان کی پابندی کرنے والا ہو اور اطاعت کا حق ادا کرنے والا ہو، تو ہر شخص اس خالص نیت کے ساتھ اور ان خالص اعمال کے ساتھ اور ان پاکیزہ آداب کے ساتھ حج بیت اللہ کرتا ہے اللہ تعالی کا اس سے وعدہ ہے کہ اُس کے کھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور میں کے تمام کھلے گناہ معاف ہو گئے وہ یقینا نا رہی ہے بچا لیا گیا۔ایک اور طرح بھی انسان اس دنیا میں بھی اوراس دنیا میں بھی نار منہ سے بھی جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ منی داخلہ ہونا ابراہیم میں داخل ہوا كان امنا اللہ تعالی کی امان میں اور امن میں آجاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :- خدا ایں بے انتہا عجیب قدرتیں ہیں۔مگر اس کی یہ عجیب قدرتیں ان ہی پھلتی ہیں جو اس کے بھی ہو جاتے ہیں۔اور وہی یہ خوارق دیکھتے ہیں جو اس کے لیے اپنے اند را یک پاک تبدیلی کرتے ہیں اور اس کے آستانے پر گرتے ہیں اور اس قطرے کی طرح جس سے موتی بنتا ہے صاف ہو جاتے ہیں اور محبت اور صدق اور صفا کی سوزش سے گھل کر اس کی طرف بننے لگتے ہیں تب وہ ھیتوں میں ان کی شہر لیتا ہے اور عجیب طور پر دشمنوں کی سازشوں اور منصوبوں سے انھیں بچا لیتا ہے اور ذلت کے مقاموں سے اُنھیں محفوظ رکھتا ہے۔وہ ان کا متولی اور متعهد ہو جاتا ہے۔وہ اُن مشکلات میں جبکہ کوئی انسان کام نہیں آسکتا ان کی مدد کرتا ہے اور اس کی فوجیں اس کی حمایت کے لیے آتی ہیں۔کس قدر شکر کا مقام