تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 49
۴۹ اللہ تعالی کے بے انصافیوض ہیں۔ان فیوض کی حد بندی نہیں کی جاسکتی اور منکہ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم پر فیضان حضرت احدیت کے بے انتہا یں اس لیے دور دیکھنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے لیے برکت چاہتے ہی ہے انتابر کتوں سے بقدر اپنے ہوش کے جملہ متا ہے۔اس ضمن میں آپ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ یں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالی کے فیوض عجیب نوری شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیں اور پھر وہاں جاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں جذب ہو جاتے ہیں۔اور وہاں سے نکل کر اُن کی لا انتہا نالیاں ہوتی ہیں اور بقد رحبتہ درصدی بر مقدار کو پہنچتی ہیں۔را نبار الحكم بو فروری ما وصفه بحوالہ تذکر ها طبع دوم صفحه ۴۷۷) تو قرآن کریم یا اسلام کا یہ دعوی کرمیں دی تلمتقین ہوں انسانی نفس کو اس کے کمالات تک پہنچانے والا ہوں یہ اس طرح پورا ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود خدائے تعالی کی نگاہ میں ایک ایسا پاک موجود ہے کہ الہ تعالی کی غیر حدود رحمتیں آپ پر نازل ہوتی رہتی ہیں یا یوں کہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے غیر محدود جلوے آپ پر ہر آن ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔توجو شخص بھی آپ سے محبت کرے گا اور آپ کے لیے برکت اور رحمت اور سلام چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے ذاتی محبت کے بدلے کے طور پر ان تمام فیض سے حقہ رسدی دیتا چلا جائے گا۔اور جب وہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل کچھ حاصل کرلے گا اس عرفان کے ساتھ کہ یہاں سے غیر محدود برکتیں حاصل کی جاسکتی ہیں تومزید رکتیں آپ سے حاصل کرنے کے لیے اس کے دل میں خواہش پیدا ہوگی اور وہ زیادہ جوش کے ساتھ اور زیادہ قلبی حمیت کے ساتھ آپ پر درود بھیجنے گھے گا اور پھر زیادہ برکات کا اس پر نزول شروع ہو جائے گا۔اور دو ترے قرآن کریم کے متعلق حضرت سیح موعود علیہ اسلام نے یہ فرمایا ہے کہ قرآن کریم کا بھی یہ دعوی ہے کہیں غیر محدود انوار کے ، میں غیر محدود برکات کے ہمیں غیر محدود مقامات قرب کے دریدہ نے اپنے ماننے والا قرآن کریم کی اتباع کرنے والوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والوں پر کھولتا ہوں، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرقنا