تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 50
ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْهِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْلَنَا إنك على كل شى قديره (سورۃ التحریم: آیت 9) اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کی اتباع اور نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کی مالیت کے نتیجہ میں اس دنیا میں کور عطا ہوتا ہے ، وہ نور میں طرح اس دنیا میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا ہے اوران کی رہنمائی کرتا ہے اور روحانی راہوں کو ان پر روشن کرتا رہتا ہے اسی طرح دوسری دنیا میں بھی یہ نور مومن سے جدا نہیں ہوگا اوریہ نہ مجھ لینا کہ قرآن کریم کی کامل اشباع کے نتیجہ میں صرف اس بنیا میں غیر محمد و د رحمتوں کے دروازے کھلے ہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی ان رحمتوں پرکوئی حدبندی نہیں لگائی جا سکتی۔اس وقت بھی رکتوں کے یہ دروازے کھلے رہیں گے کیونکہ دوسری جگہ فرمایا ہےکہ جو اس دنیا میں اندھا ہوگا وہ اس دنیا میں بھی بنیائی کے بغیر ہوگا۔یہاں اس کے مقابل یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو اس دنیا میں روشنی اور دور رکھتا ہوگا وہ نور اس دنیا میں بھی اس کے ساتھ جائے گا۔اور یہ نہیں کہ اس دنیا میں روحانی ترقی کے دروازے تو ایسے شخص پر کھلے رہیں گے لیکن اس دنیا میں وہ بند ہو جائیں گے اور وہاں جا کے فصل کٹنے کے بعد جو اس کے پھلوں کے کھانے کا وقت ہوتا ہے ، صرف ویسا ہی وقت ہو گا۔ر اور مزید ترقی اُسے نہیں لے گی۔یہ بات نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی روح کے لیے ایسے سامان پیدا کردیئے ہیں کہ جو نور وہ قرآن کریم کی متابعت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اس دنیا میں حاصل کرتا ہے مرنے کے بعد بھی وہ اسکے ساتھ جائے گا اور اللہ تعالیٰ وہاں بھی اس کی ترقیات کے دروازے کھولتا رہے گا اور اس کی راہوں کو روشن کرتا چلا جائے گا۔اور کہیں بھی روحانی ترقیات کی اس راہ نے ختم نہیں ہوتا۔کیونکہ بندے اور خدا کے درمیان جو فاصلے ہیں اُن کی انتہانہیں پیس بندے اور خدا کے درمیان جو مقامات قرب ہیں ان کی حد بندی اور تعیین کیسے کی جا سکتی ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اس آیت میں یہ تو فرمایا کہ وہ ہمیشہ ہی کہتے رہیں گے کہ ہمارے نور کو کمال تک پہنچا۔یہ ترقی۔غیر متناہیہ کی طرف اشارہ ہے یعنے ایک کمال نورانیت کا اُنھیں حاصل ہوگا ، پھر دوسرا کمال نظر آئے گا۔اس کو دیکھ کر پہلے کمال کو ناقص