تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 36

یہی ہے کہ و حاکم وہی ہیں وہ اپنے گدھوں کو بھی رفت کے مقام پرلے جاتیہیں بنا میرے ساتھ ایک ال عالم اسٹور میں پڑھا کرتا تھا وہاں طریق یہ ہے کہ طالب علم پڑھانی ہی چل نہ سکےاس کا روپیہ ضائع نہیں کرتے بلکہ ایک ٹرم (TERM) کے بعد جب اپنے گر جاتاہےاوراس ٹر کا یہ کھلا ہے تو اسے گھر میں تیج دیتے ہیں تمھیں اپس تشریف لانے کی ضرورت نہیں تم وہیں کام کرو انگریزی میں سے کہتے ہیں S ENT HOME گا گھر بھی دیا گیا اتفاقا میرے گروپ کا ایکٹ کا دوسری ٹرمیں اس نہ آیا ھے اس قتان طلاق کا علم نہیں تھا اسے میں نے دوستوں کوچھا کہ عمال العلم کیوں نہیں آیا ہے کیوں مجھے دنیا بھی پیدا ہوالبعض موتی بھی ہوجاتی ہیں اورپرحادثات بھی ہو جاتے ہیں پتہ نہیں کیا بات ہے کہ وہ لڑکا اپس نہیں آیا۔تو مجھے ایک دوست نے بتایا کہ HE IS SENT HOME اُس کو انھوں نے فارغ کر دیا ہے ہ ء میں جب میں دہلی گیا تو پیٹ فارم پر اتفاق ایک شخص پرنفر روی تو علم ہو کہ یہ وہی لڑکا ہے۔وہ اس وقت انگریزی حکومت کا ایک بڑا افسر تھا اس نے مجھے پہچان لیا اور میں نے اسکو پہچان لیا ہم ایک سرے سے ملے ہیں نے دل میں کہا کہ چونکہ ا قوم کو دنیوی اقتدار حاصل ہے اس لیے یہ ہمارے ملک کے محاورہ کے مطابق اپنے گدھوں کو بھی افس بنادیتے ہیں اور افس بھی ہمارے اوپر غرض ہر قومیں اچھے دماغ بھی ہیں اور بڑے ماغ بھی ہیں۔کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں آپ کو یہ چیزنہ ملے۔کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس کے سارے ماغ اچھے ہوں اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے، جس کے سارے دماغ بڑے ہوں۔اچھے اوسط درجہ کے اور برے سب ہی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔غرض اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا ہ کوئی امتیاز قائم کی جائے بلکہ وہ مساوات قائم کرتا ہے۔مثلاً تعلیم کے میدان میں دیکھو اسلام علم سیکھنے پر بہت زور دے رہا ہے نہیں کا مطلب یہ ہے کہ جتنا جتنا علم کوئی سیکھ سکے یقینی کسی کے اندر صلاحیت اور استعداد ہو اس کے مطابق اس کو علم سکھانا چاہیئے اور اس سے یہ بات بھی کہتی ہے کہ کوئی تھرڈ کلاس لڑکا جو رعایتی پاس ہونے والا ہو اس کو وظیفہ نہیں دینا چاہئیے کیونکہ یہ ضیاع ہے لیکن جو ہوشیار طالبعلم ہے اس کے مانے والے کیا اللہ عال کی ناشکری و قوم کو نقصان نہانے کے مترادف ہے۔غرض اسلام انسان نے دماغ کو کرنا میں مساوات کواوراس کے بعد اخوت کو قائم کردیا ہے۔اس نے د ے سالے کیوں اور تینوں کو کال کے باہر پھینک دیا ہے اور اسنے کا ہے تم بھائی بھائی کی طرح ایک مہرے سے پیار کرو اورپھر اپنی بنیادی تعلی کو تین بڑے ستونوں پر قائم کیا ہے اور وہ تین ستون عدل ، احسان اور انشاء ذی القربی ہیں۔ہر وہ قوم جو بین الاقوامی حیثیت کی مالک ہو یا وہ رشتے اور تعلقات جو ہیں لا قوامی ہوں وہ اگر عدل کے اصول پر قائم ہوں اور اس سے بڑھ کر احسان کے اصول پر قائم ہوں اور پھر اسے بھی بڑھ کر ایا اور انفرینی