تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 114
کبر الکبیر نخوت ، خود پسندی، خود رائی، اپنے آپ کو کچھ کہنا اور دنیا و قیر کہنا یہ بائیں نہ ہوں کہ خدا تعال کے مینی مشق سے ہو گناہ سوز ہے اس کی تمام کمزوریاں اور گناہ خاک ہو گئے ہوں اور وہ ایک پاک دل کے ساتھ اور ایک مظہر سمینہ کے ساتھ اور آنسو بہانے والی آنکھ کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکنے والا ہو۔تب اُس کی دُعا کو قبول کیا جاتا ہے۔لیکن ہمارا خدا ر نعوذ باللہ) جاہل نہیں ہے۔کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔وہ جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے سینوں کی باتوں کو جانتا ہے۔وہ جیسا کہ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے جانتا ہے کہ کون متقی ہے اور کون نہیں۔وہ جانتا ہے کہ کون ہمارا دشمن ہے اور کون دوست وہ جانتا ہے کہ کس چیز میں ہماری بھلائی ہے اور کس چیز میں ہمارا نقصان ہے پس ہماری دعاؤں کو علیم ہونے کی حیثیت سے قبول کرتا ہے۔وہ نعوذ باللہ بے وقوف ماں کی طرح نہیں ہے کہ اگر تجھے آگ کا انگارہ اس سے مانگے تو بعض دفعہ چڑ چڑے پن میں وہ آگ کا انگارہ اس کے سامنے رکھ دیتی ہے اور بچے کے ہاتھ کو جلا دیتی ہے۔وہ ماں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے۔وہ باپ سے بھی زیادہ پیار کرنے والا ہے۔وہ جب دعاؤں کو قبول کرنے پر آتا ہے تو انہی دعاؤں کو اور اسی رنگ میں قبول کرتا ہے جو دعائیں جس رنگ میں ہمارے فائدہ کے لیے ہیں۔لیکن جب دعا میں جوچیز مانگی گئی ہے وہ ہمارے فائدہ کے لیے نہ ہو تو وہ اُسے رد کر دیتا ہے اور اس کی بجائے محض اپنے فضول اور رحم سے کسی اور شکل اور کسی اور رنگ ہیں، اپنی رحمت کو ظاہر کرتا ہے۔وہ بڑا ہی پیار کرنے والا، وہ بڑی ہی محبت کرنے والا رب ہے۔ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کے دن گزاریں اور جماعت کے اندر تھا اور اتفاق کو ہمیشہ قائم رکھیں اوراس حقیقت کو بھی نظرانداز نہ کریں کہ سب بزرگیاں اور ساری ولایت خلافت راشدہ کے پاؤں کے نیچے ہے۔جوشخص اس سے باہر اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے اس کی دعائیں اگر قبول بھی ہوں تو وہ قبولیت اصطفا کی نہیں وہ قبولیت استبلا اور امتحان کی ہے۔اپنی اپنے رب سے ڈرتے رہنا چاہیئے۔ر منقول از روزنامه الفضل ابوه مو نه ارجون علاء)