تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 113 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 113

یہ ہے کہ اس کا کوئی مخلص بنده اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دعا کرنے۔میں مشغول ہو جاتا ہے، اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لینے مصروف کرتا ہے۔تب اُس مرد فانی کی دُعائیں فیوض الہی کو آسمان سے کھینچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اس باب پیدا کردیا ہے جن سے کام بن جائے۔۔۔رایام الصلح صفه ) تو اللہ تعالی قرآن کریم میں دعا کے متعلق تین بنیادی باتیں تمہیں بتاتا ہے :۔ایک یہ کہ جب تک ہم دعا کے ذریعہ سے مقبول دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالی کے فضل کو جذب نہ کریں اس اخت تک اپنے اعمال پر ہم خوش نہیں ہو سکتے نہیں کر سکتے کہ اللہ تعالی ان کو قبول کرے گا بھی یا کہ نہیں کیونکہ اللہ تعالی نے صاف اور پر شوکت الفاظ میں میں بتادیا ہے کل ما تو اسکنر برای تولا دفا ذکر تمہاری کیا پروا ہے انتہاری نیکیوں کی کیا پروا ہے، تمہارے اعمال کی کیا پروا ہے میرے رب کو ، اگر دعا کے ساتھ تم اس کی طرف مجھکو نہ۔لیکن نہیں تو اس کی پروا ہے۔اور اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنی محبت کے جلوے ظاہر کرتا ہے تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم دعاؤں کے ذریعہ سے ، ان دعاؤں کے ذریعہ سے جن میں تمام شرائط دعا پائی جاتی ہوں ، اس کے فضل کو جذب کرنے والے ہوں۔اگر ہم ایسا نہیں کریں تو ہمارے اعمال کی اتنی بھی قیمت نہیں متبی کبیری کے ایک پاؤں کی قمیت دنیا کی نگاہ میں ہے۔دوسرے اللہ تعالی نے یہ بتایاکہ اسلام نے ایسی تعلیم میں عطا کی ہے اگر میں تعلیم میں نظر کی اور اسلم کی ہدایات پرپول کریں قوی امید کرسکتے ہیںکہ ہمارا لا جوہی ہے ہماری دعاوں کرے گا اور یا فرمایا اور کہا کہ اپنی امت کے سامان پیداکرےگا۔اور تیسر کی بات ہمیں یہ بتائی کہ خدا تعالی بیشک السمیعہ ہے لیکن وہ تعلیم بھی ہے۔ایک انسان دنیا کو دھوکا دے سکتا ہے وہ ظاہرمیں بزرگی کا بہ بن سکتا ہے۔وہ ہزار تکلف کے ساتھ اپنی بزرگی کا اعلان کرسکتا ہے لیکن اپنے رب کو وہ دھوم نہیں دے سکتا ہیں وہی شخص خدا کے نزدیک مقبول ہے اوراسی کی دعائیں ان کی جاتی ہیں کے ایک کی کمی کا مارا گیا اور ناپاکی تور