تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 112 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 112

۱۱۲ کامل ثبت وفی و بی اس قبولیت دعا سے متعلق ہیں جو اصطفا کے رنگ میں ہوں لیکن جو قبولیت دعا ابہلا کے رنگ میں ہو اس کا ان شرائط سے تعلق نہیں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے اس مضمون پر بڑی تفصیل سے بحث کی ہے اور فرمایا ہے انہوں کو بھی اللہ تعالی سچا خواب دیکھاتا ہے تاکہ ان کی ہدایت کے سامان پیدا کر تے تا وہ اُن کے دل میں یہ خیال پیدا کرے کہ وہ اس گند سے با ہر کہیں اور پاکیزگی کے منبع اور سرچشمہ کی طرف بھا گئیں اور اپنے آپ کو پاک کرنے کی کوشش کریں۔لیکن اگر دعا کرنے والے کا دل تقولی کے نور سے منور نہ ہو یا اس کا سینہ پاکیزگی کی خوشبو سے خالی ہو یا اس کی زبان استگوئی کا طریق اختیار کرنے والی نہ ہو اور اس کا دل کامل یقین اور کامل محبت سے پر نہ ہو۔اس کا ذہن کامل توجہ سے اپنے رت کی طرف جھکنے والا نہ ہویا جو چیز مانگی گئی ہے وہ علام النٹیوب کے نزدیک اس نٹس کے لیے جس کے لیے وہ مانگی گئی بغیر کا موجب نہ ہو تو تمام حالتوں میں دعا کور د کر دیا جاتا ہے۔مگر آخری صورت میں اللہ تعالی کسی اور رنگ میں ایسی دعا کا رد انسان کو بدلہ دے دیتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔کیا ر تسلی بخش ثبوت نہیں ہے کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک روحانی قانون قدر ہے کہ دعا پر حضرت احدیت کی توجہ جوش مارتی ہے اور سکینت اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ملتی ہے۔اگر ہم ایک مقصد کی طلب میں غلطی پر نہ ہوں، تو وہی مقصد مل جاتا ہے اور اگر ہم اس خطا کار بچہ کی طرح جو اپنی ماں سے سانپ یا نگ کا ٹکڑا مانگتا ہے اپنی دکھا اور سوال میں غلطی پر ہوں تو خداتعالی وہ چیز جو ہمارے لیے بہتر ہو خط کرتا ہے اور بایں ہمہر دونوں صورتوں میں ہمارے ایمان کو بھی ترقی دیتا ہے کیونکہ ہم دعا کے ذریعہ سے پیش از وقت خدا تعالیٰ اسے علم پاتے ہیں اور الیسا یقین بڑھتا ہے کہ گویا ہم اپنے خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور دعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتدا سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے جیب خدا تعالے کا ارادہ کسی بات کے کرنے کے لیے توجہ فرماتا ہے تو سنت اللہ