تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 111 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 111

ہے کہ بارگاہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں، تب اُس کی روح اس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوت جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خدا تعالی کی عنایات کو اپنی طرف سینچتی ہے اب اللہ جل شانہ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اسباب پر ڈالنا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لیے ضروری ہیں کیا بركات الدعاء صفحه 4) انیسواں مقصد یہ بیان ہوا تھا کہ صفت سمیع کے ہی نہیں بلکہ صفت علم کے جلوسے بھی دنیا اس امت کے ذریعہ دیکھے گی۔بعض دعاؤں کا رڈ ہو جانا یا لیض دعاؤں کا اس رنگ میں پروانہ ہونا اس جنگ میں دو مانگی گئی تھیں یہ تاب نہیں کریگا کہ ہما را خدا عزوجل سمیع نہیں ہے یا تمام قدرتوں اور طاقتوں کا مالک نہیں ہے بلکہ یہ ثابت کرے گا کہ جہاں وہ قادر توانا سمیع ہے وہاں وہ علیم بھی ہے اور قبولیت دعا کا اس کی صفت علیم کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔حضرت مسیح موعوظ یا سلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :۔اور یہ بھی یادر ہے کہ دعا کرنے میں صرف تضرعا کافی نہیں ہے بلکہ تقوی اور طہارت اور راست گوئی اور کامل یقین اور کامل محبت اور کامل توجہ اور یہ کہ شخص اپنے لیے دعا کرتا ہے یا جس کے لیے دعا کی گئی ہے اس کی دنیا اور آخرت کے لیے اس بات کا حاصل ہونا خلاف مصلحت المی بھی نہ ہو کیونکہ بسا اوقات دعا میں اور شرائط تو سب جمع ہو جاتے میں گرمیں چیز کو مانگا گیا ہے وہ عنداللہ سائل کے لیے خلاف مصلحت الہی ہوتی ہے۔اور اس کے پورا کرنے میں خیر نہیں ہوتی یا بركات الدعا صفحه ۱۰) یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قبولیت دعا کے لیے مین شرائط کا ذکر کیا ہے یعنی تقو بی طہارت کا مل لنین