تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 78 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 78

کردیا گیا بجائے اس کے کہ یہ خالص بین الاقوامی معاہدہ ہوتا انھوں نے اس کے اندر ویٹو کو پا لیا۔یعنی بعض قوموں کو لود این نے پرفضیلت عطا کی ان کی رائے کے بغیر بعض معاملات طے نہیں ہو سکیں گے، حالانکہ جس طرح وہ قانون جوافراد پر لاگو ہوتا ہے اس میں میر اور غریب طاقتور اور کزور میں فرق نہیں کیا جا سکا نہ کیا جانا چاہیے اگر قانونی حکومت کو مک میں اٹھ کرنا ہو۔اس کا یہ ضروری ہے کہ ین الاقوامی معادات میں کسی قوم کوکسی دوسری قوم پر تر جیح دی جائے، اگر تر جیح دی جائے گی تو وہ بین الاقوامی قانون لازما نا کام ہو جائے گا۔قرآن کریم نے تعلیم دینی کسی قوم کوکسی قوم پرند یعے دنیا انھوں نے سمجھا کہ ہم تیرے طاقتور ہیں، اپنے زور سے جو چاہیں کر سکتے ہیں۔وٹو کے حقوق بعض قوموں کو دیدیئے یا لبعض قوموں نے اپنے لیے یہ حقوق کے لیے۔اور بڑی وجہ اس قمت یو، این، او کی ناکامی کی ہی ہے کہ انھوں نے معاہدہ کرتے وقت صرف ایک قسم کا معاہدہ نہیں کیا جو صف بین الاقوامی حیثیت کا ہوتا بلکہ اس کے اندر انفرادی معاہدے بھی شامل کر دیے گئے جوصرف بعض اقوام سے تعلق رکھتے تھے۔دنیا کی سب اقوام سے ان کو تعلق نہیں تھا۔" قرآن کریم نے دوسری ہدایت یہ دی تھی بین الاقوامی امن کے قیام کے متعلق کہ جس وقت جھگڑا ہو اسی وقت میصد کرنے ی طرف توجہ دینی چاہیئے لیکن آج دنیا کا دستور اپنے ذاتی مفاد کے پیش نظر بین گیا ہے کہ وہ جھگڑے کو لمبا ہونے دینے میں لمبا کرتے چلے جاتے ہیں تاکہ بعض ذاتی مفاد کو حاصل کر سکیں۔اس طرح دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔پھر تیری ہدایت یہ تھی کہ بین الاقوامی معاہدہ میں علاقائی تعصب مضر ہے، بلکہ ملک ہے، لیکن بین الاقوامی معاہدہ جو یو، این او کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا اس کے باوجود ان قوموں نے جواس کی عمر نہیں، بلکہ بازو نہیں علیحدہ علیحدہ معاہدے کرنے شروع کردیئے اور جین قوموں سے اُن کے ذاتی تعلقات تھے اُن کے حق میں تعصب اور جنبہ داری کے طریق کو اختیار کرنا شروع کردیا۔پس قرآن کریم نے کہا ہے کہ بین الاقوامی امن صرف اس صورت میں قائم کیا جاسکتا ہے جب قوم قوم کے درمیان جاریہ ارین کے سلوک کو اختیارنہ کیا جائے اور کوئی ایک قوم دوسری قوم کی نا جائز حمایت کرنے پر نہ نکلے۔چوتھی چیز جس کے خلاف ہے قرآن ، مگر جس کے حق میں ہوگئی ہے یہ ظالم دنیا۔وہ یہ ہے کہ جب جھگڑا ہو جائے تو باہمی