تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 65
۶۵ ہے کہ ہمارا خدا، کریم اور قا در خدا ہے پیس کی تم ایسے عزیز کو چھوڑو گے یہ کیا ہے نفس نا پاک کے لیے اس کی حدود کو توڑ دو گے یا ہمارے لیے اُس کی رضامندی میں مرنا نا پاک زندگی سے بہتر ہے ؟ ر أيام التصلح صفه (1۔یہ وہ امن ہے جو اس شخص کو حاصل ہوتا ہے جو اپنے پر ایک موت وار کر کے مستی کا لبادہ اوڑھا اور مقام بیا میں میں وائل ہوتا ہے تب اللہ تعالٰی کی فوجیں آسمان سے نزول کرتی ہیں اور اس کو ترسم کے مذاہوں سے محفوظ کرلیتی میں خداتعات اپنے بندوں پر دو آگوں کو مسلط نہیں کرتا۔ایک تو اس کے وہ بندے ہیں جو محبت کی آگ میں جل گرفتا کا مقام حاصل کرتے ہیں تب دوسری آگ کے دروازے اُن پر بند کردئے جاتے ہیں۔ایک وہ اس کے بندے ہیں جو اس کی محبت کا خیال نہیں سکتے جو اس کے پیار پیشکر کرنے والے نہیں ہو اس کی رحمتوں پر کفر کرنے والے ہیں، جو اس سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس سے پیار کرنے کی بجائے دنیا سے پیار کرتے ہیں وہ اسے محبوب بنانے کی بجائے دنیا کے علائق کو اور دنیا کے رشتوں کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں۔ایسے لوگوں پر خدا کی حفاظت نازل نہیں ہوتی اور نہ اس کی فوجیں نازل ہو کران کو امن دیتی ہیں۔بلکہ دوزخ کے دروازے ان لوگوں پر کھولے جاتے ہیں اور نار جہنم ان کا ٹھکانا ہوتا ہے۔پس خدا کے بندوں پر دو آگیں وارد نہیں ہوتیں۔اب یہ اُن کی مرضی ہے کہ محبت کی آگ کو پسند کریں اور گندگی کو جلا کہ خاک کر دیں، اپنے نفس کو بھی اور اپنی خواہشات کو بھی اپنے وجود کو بھی اپنی ساری محبتوں کو بھی ، اپنے سارے رشتوں کو بھی انے تعلقوں کو بھی۔اور یا وہ خدا کی محبت پر دنیا کی محبت کو ترجیح دیں اور اپنے لیے خود اپنے ہاتھ سے جہنم کے دانے کھولیں۔ساتواں وعدہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کیا گیا تھا کہ صرف تیری نس پر ہی یہ حج فرض نہ رہے گا بلکہ ایک ایسا نبی بیاں مبعوث کیا جائے گا جس کی شریعیت عالمگیر ہوگی اور اس شریعت کے نڈوں کے بعد اقوام عالم پر میچ کو فرض کر دیا جائے گا او اس طرح اس خانہ خدا کو مرجع خلائق اور مرجع عالم بنا دیا جائے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہی کہ حضرت نبی اکرم کی بعثت سے پہلے یہ وعدہ پورا نہیں ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور قرانی شریعت آپ پر نازل ہوئی تب اس شریعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان پرچ کو فرض کر دیا۔چنانچہ سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : الحج