تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 51
پائیں گے۔پس کہاں ثانی کے حصول کے لیے انتہا کریں گے اور جب وہ حاصل ہوگا تو ایک تیسرا مرتبہ کمال کا ان پر ظا ہر ہوگا۔پھر اس کو دیکھ کر پہلے کمالات کو ہیچ سمجھیں گے اور اس کی خواہش کریں گے یہی ترقیات کی خواہش ہے جو انیمہ کے لفظ سے مجھ جا سکتی ہے۔فرض اسی کی غیر متناہی سلسلہ ترقیات کا چلا جائے گا تنزل کبھی نہیں (اسلامی اصول کی فلاسفی و روحانی خزائن جلد اصفحه ۴۱۲۰۴۱۲) ہو گا۔تو قرآن کریم نے ایسا دعوی بھی کیا اقران کریم نے ایسا کرکے بھی دکھا یا بینی ہزاروں لاکھوں مقدس بندے خدا تعالیٰ کے اسلام میں ایسے پیدا ہوئے جنھوں نے اسلام سے اور حاصل کر کے ہجوں نے نبی کی اسی اللہ علیہ سلم کی محبت سے روشنی حاصل کر کے ہمنوں نے اللہ تعالیٰ کے عشق سے ایک چنگاری لے کر ایسی اور حاصل کیا کہ وہ اس دنیا میں غیرت ہی ترقیات کے حامل ہوئے اور جو انہیں اُخروی زندگی میں ملے گا جس کا وعدہ ان سے کیا گیا ہے ، اس کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔جیسا کہ احادیث میں بیان ہوا ہے کہ وہ ایسی عجیب نعمتیں ہیں کہ ان کا تصور بھی انسان بیاں نہیں کر سکتا۔ہدایت کے چوتھے معنے جیسا کہ میں نے بتایا تھا انجام بخیر ہونے کے ہیں یعنی جنت کے مل جانے کے۔اور مقصدِ حیات کے حصول کے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُولَئِكَ عَلى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ه رسورة البقرة : آيت (1) کہ وہ لوگ جو قرآن کریم کی تعلیم ہی کرنے والے ہیں اس پردہ مضبوطی سے قائم ہیں اور ان کے رب کی ربوبیت کا ملہ نے میں کامل ہوتے کو نازل کیا وہ اس ہدایت کے اوپر قائم ہیں۔وأوليك هم المفلحون وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔فلاح عربی زبان میں کامل کامیابی کو کہتے ہیں کہ جس کے مقابلہ میں کوئی کامیابی کامیابی نہیں رہتی جس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ ہو جیں میں کسی قسم کی کوئی خامی نہ ہو۔بو بھر پور کامیابی ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ جو لوگ اپنے رب کی رہو انسان کی ربوبیت کرتا ہوا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایک خاص بلند مقام پران کولے آیا اور کامل استعدا دیں اور کامل صلاحیتیں اُن کو عطا کی ہدایت پر قائم ہیں۔وہ ایک حقیقی اور کامل فلاح و کامیابی کو پاتے ہیں اورپہلی تمام امتوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔