تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 48
صداقت ہے جس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں سینئے حضور فرماتے ہیں:۔جس قدر معارف عالیہ دین اور اس کی پاک صداقتیں ہیں اور جس قدر نکات و لطائف علم الٹی میں جین کی اس دنیا میں تمہیں نفس کے لیے ضرورت ہے، ایسا ہی میں قطر نفس امارہ کی بیماریاں اور اس کے جذبات اور اس کی دوری یا دائمی آفات ہیں یا جہ کچھ اُن کا علاج اور اصلاح کی تدبیریں ہیں اور یں قدرت کی تصفیہ لن کے طریقی میں اورمیں قدر اخلاق فاضلہ کے انتہائی ظہور کی علامات و خواص ولوازم ہیں بیسب کچھ باسیفائے تام قرآن مجیدمیں بھرا ہوا ہے اور کوئی شخص ایسی صداقت یا ایسا نکتہ الیہ یا ایسا طریق وصول الی اللہ یاکوئی ایسا نادر یا پاک کو مجاہد اپنی امی کو نکال نہیں سکتا جو اس پاک کلام میں درج نہ ہو کہ دس مریم آریہ ملت حاشیہ) اس کی تفصیل آگے حضور نے بیان فرمائی ہے۔پس قرآن کریم کا ہی یہ دعوی ہے کہ انسانی نفس کو روحانی کمالات تک پہنچانے کے لیے جس میں ہدایت اور صداقت کی ضرورت تھی وہ سب میرے اندر پائی جاتی ہیں، اگر تم میری اتباع کرو گے تو روحانی ہماری سے محفوظ ہو جاؤ گے اور روحانی ترقیات کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے اور تم اپنے نفس کا کمال حاصل کر لو گے۔اور ہروہ شریعت میں کا یہ دعوئی ہو عقلاً اس کا یہ دعوی بھی ہونا چاہیے کہ غیر متناہی رفعتوں کے دروازے میں تم کول رہی ہوں اور قرآن کریم نے یہ دعوی بھی کی ہے کہ کم قرآن کرم کے شروع میں ہی کہاکہ ان کی امین رسورہ البقرہ آیت ۳) کہ کوئی تقوی کے کسی بند اور ارفع مقام تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے قرآن کریم اس پر تقوی کی مزید راہیں کھولتا ہے۔پھروہ آگے جاتا ہے۔پھر وہ مزید بلندیوں کو حاصل کرتا ہے۔پھر اس سے بھی بلند تر روحانی رفعتیں اس کے سامنے آتی ہیں۔پھر وہان تک پہنچنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور قرآن کریم اس کی انگلی پکڑتا ہے اور کہتا ہے تم میری اتباع کرو میں تمھیں ان مزید رفعتوں تک بھی لے جاؤں گا۔اسی طرح یہ سلسلہ چلا جاتا ہے اور اس کی انتہا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو دو طرح بیان فرمایا ہے۔ایک ایک نبی کریم صلی اللہ علیکم