تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 47 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 47

گھی حقیق کامیابی حاصل نہیں کرسکتے اور چونکہ عقل تمام انسانوں کو اللہ تعالے نے دی ہے اور وہ جو خدائے تعالیٰ کے نہائے ہوئے قوانین پر پل پیرا ہوتے ہیں اللہ تعالی ان کو الہام کرتا ہے اور نئے سے نئے مضامین اُن کے دماغ میں ڈالتا ہے عقلی میدان میں علم کے میدان میں خواہ کوئی مسلمان ہویا عیسائی ہو یا ہیریہ ہو یاکسی مذہب کے ساتھ یا کسی بد مذہبیت کے ساتھ یا لامذہبیت کے ساتھ اس کا تعلق ہو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے عقل کو مشترک ورثہ بنا کر انسانوں کے لیے پیدا کیا ہے۔قرآن یہ کہتا ہے کہ علاوہ بعض دوسری ہدایتوں کے جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں ہم عقل کی بھی راہنمائی کرتے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بڑے لطیفہ پیرایہ میں بیان کیا ہے کہ وحی و الہام کے ذریعہ انسانی عقلوں کو اللہ تعالی نیز کرتا ہے او پھر ذہن رسا سے جو علوم پرورش پاتے ہیں، قرآن کریم ان سے خادموں کی طرح خدمت لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام فرماتے ہیں کہ :- " خدائے تعالیٰ کی مہستی اور خالقیت اور اس کی توحید در قدرت اور ھم اور قیومی اور مجازات وغیرہ صفات کی شناخت کے لیے جہاں تک علوم عقلیہ کا تعلق ہے استدلالی طریق کو کامل طور پر استعمال کیا ہے اور اس استدلال کے نہین میں تمام علوم کو سیاست ن و موزوں طور پر بیان کیا ہے۔۔اور۔۔علوم مذکورہ سے ایک ایسی شائستہ خدمت لی ہے جو کبھی کسی انسان نے نہیں لی یا گرت تیم آریہ کا حاشیہ ور یہ قرآن کریم کا کمال ہے کہ باقی ادیان تو رائج الوقت علوم کے سامنے اب سکتے ہیں لیکن اسلام می ایک ایسا دین ہے اور قرآن ہی کیا ایسی کتاب ہے جوکسی عقل علم کے سامنے دیتی ہیں کہ اس کو خادم گھتی اور اس سے خدمت لیتی ہے۔ہدایت کے دوسرے معنے شریعیت کے ہیں جو اللہ تعالے کی طرف سے نازل ہو۔تو ھدی تعلمین کے معنی یہ ہوں گے دہ شریعیت جو علمئین کے لیے ، تمام جہانوں اور تمام زمانوں کے لیے ہے اور صرف قرآن کریم ہی ھدی للعلمین ہے اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے دنیا کو مخاطب کر کے فرمایا انّي رَسُولُ اللهِ اللَيْكُمْ جَمِيعًا (سورة الأعلى ١٥٩:٠٠) قرآن کریم بھرا پڑا ہے اس مضمون سے کہ وہ تمام جہانوں اور تما زمانوں کی ہے۔صرف ایک دعوی نہیں کہ ایک ناقابل رشید