تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 12
لاکھوں کی تعدادمیں ہوگی اور ہرزمانہ میں پائی جائے گی اور اس امت کی قربانی کا گر تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کے ساتھ مقابہ کرو گے تو اس کو ان سے کہ نہیں پاؤ گے۔نبی کریم صل اللہ عیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اس قوم نے پیدا ہونا تھا لیکن اس قوت قدسیہ کے جو اثرات میں " ان کودنیا میں موثر طریق پر پھیلانے کے لیے قریباً اڑھائی ہزارسال سے خانہ گھر کی بنیاد امیر کو کی گئی تھی تو یہاں نیویا که ظام کی شکل تھی کے ارکان کی، اس عبادت کی خود ہی ایسی ہے جس کا تعلق محبت سے ہے۔لشکر طواف کرتا ہے۔اب تخیل قریباً ساری اقوام میں پایا جاتا ہے کہ جب کسی کے لیے جان کی قربانی دینا ہو تو اس کے گرد گھومتے ہیں۔ہمارے بعض بادشاہوں کے متعلق بھی آتا ہے کہ ان میں سے کسی کو بچہ بھیار تھا۔اس نے اس کا طواف کیا اور دعا کی کہ میری زندگی اس کو مل جائے پیس جان قربان کرنے کا بت تخیل ہے وہ طواف کے ساتھ گہراتعلق رکھتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ یہاں سے ایک ایسی قوم پیدا کی جائے گی جو ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی رہے گی اور اس کے آستانہ کا جو یتی رہے گی۔ایک طرف و حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی یا کوتازہ رکھنے والی ہوگی اور دوسری طرف وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کو نہایت شان کے ساتھ ظا ہر کرنے والی ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی ایک قوم پیدا کردی صرف پہلے زمانہ میں ہی نہیں۔صرف عرب میں بسنے والوں میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر خطہ میں اور قیامت تک ہر زمانہ میں جو برا نہیں عشق اور جوابا ہمیں مثبت اپنے رب کے لیے رکھیں گے وہ اس کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں دینے والے ہوں گے۔" ر منقول از روزنامه الفضل ربوه مورخه ۲۳ را سپر