تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 137
اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔وہی معارف دقیق ہیں جن کو فرقان مجید میں حکمت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جیا کہ فرمایا ہے : يُوتِ الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدُهُ أُولَى خَيْيرا نيويات یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور میں کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی ہے بینی حکمت خیر کثیر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اس نے خیر کثر کو پالیا۔سو یہ علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں یہ خیر کثیر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بر محیط کے رنگ میں ہیں جو کلام الہی کے تابعین کو دے جاتے ہیں اور اُن کے فکر اور نظر میں ایک ایسی برکت رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے حقاق حقہ اُن کے نفس آئینہ صفت پر نعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقتیں اُن پر منکشف ہوتی رہتی ہیں۔دیرا بین احمد به حقه چهارم ماشیبه در حاشیہ نمبر ۲۳۵) عرض تب میں مقاصد میں جن کا تعلق بیت اللہ کی از سر نو تعمیر سے ہے اور اس کے بیان کی ضرورت یہ پڑی کہ ایک دن اللہ تعالیٰ نے بڑے زور کے ساتھ مجھے اس طرف متوجہ کیا کہ موجودہ نسل کا جو تیسری نسل احمدیت کی کہلا سکتی ہے۔صحیح تربیت نما علیہ اسلام کے لیے اشد ضروری ہے یعنی احمدیوں میں سے وہ جو ہا سال کی عمرکے اندراندر میں باجی کو احمدیت میں ال ہوئے ابھی پندرہ سال نہیں گزرے، اس گروہ کی اگر صحیح تربیت ہ کی گئی تو ان مقاصد کے حصول میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی بین مقاصد کے حصول کے لیے اللہ تعالی نے حضر مسیح موعود علیہ السلام کو جرى اللهِ في محل الا نبیا ء کی شکل میں دنیا کی طرف مبعوث فرمایا اور جن مقاصد کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالے نے میری توجہ اس طرف پھیری کہ اس گروہ کی تربیت کے لیے جو طریق اختیار کرنے چاہئیں ان کا بیان ان آیات میں ہے جن کے اوپر له البقرة : ٢٠٠ ٠٠