تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 138
میں خطبات دنیا رہا ہوں۔اور اگران مقاصد کو صحیح طور پر سمجھ لیا جائے اور ان کے حصول کی کوشش کی جائے تو خدا کے فضل اور رخم کے ساتھ ہماری یہ پود صحیح رنگ میں تربیت حاصل کر کے وہ ذمہ داریاں تباہ سکے گی جو ذمہ داریاں عنقریب اُن کے کندھوں پر پڑنے ولی ہیں کیونکہ میری توجہ کو اس طرف پھر گیاتھا کہ آیند و میں کہیں سال اسلام کی شاہ ثانیہ کے لیے پیسے ہی اہم اور تانی ہیں اور اسلام کے غلبہ کے بڑے سامان اس زمانہ میں پیدا کیے جائیں گے اور دنیا کثرت سے اسلام میں داخل ہوگی یا اسلام کی نظر متوجہ ہور ہی ہوگی۔اُس وقت اسی کثرت کے ساتھ اُن میں مرتی اور مسلم بائیں ہوں گے۔وہ علم اور مرتی جماعت کہاں سے لائے گی اگر آج اس کی فکر نہ کی گئی۔اس لیے اس کی فکر کرو اور ان مقاصد کو سامنے رکھو جو ان آیات میں بیان ہوئے ہیں۔اور ان مقاصد کے حصول کے لیے میں رنگ کی تربیت کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کی روشنی میں اسی قسم کی تربیت اپنے نوجوانوں کو دو تا جب وقت آئے تو بڑی کثرت سے اُن میں سے اسلام کے لیے بطور مرتی اور معلم کے زندگیاں وقف کرنے والے موجود ہوں نا وہ مقصد پورا ہو جائے کہ تمام بنی نوع انسان کو علی دین کو اجل جمع کر دیا جائے گا۔ان خطبات کے دوران ایک بزرگ نے مجھے لکھا کہ آپ کے جو خطبات ہو رہے ہیں ان کا تعلق حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے ایک الہام سے بھی ہے جو تذکرہ کے صفحہ ۸۰۱ پر درج ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں :- "جو شخص کعبہ کی بنیاد کو ایک حکمت الہی کا مسئلہ سمجھتا ہے ، وہ بڑا عقلمند ہے کیونکہ اس کو اسرار ملکوتی سے حصہ ہے “ پس میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو میری توجہ کو اس طرف پھیرا خدا یہ چاہتا ہے کہ قوم کے بزرگ بھی اور قوم کے نوجوان بھی قوم کے مرد بھی اور قوم کی عورتیں بھی اس حکمت الہی کو سمجھنے لگیں جس حمت الہی کا تعلق خانہ کعبہ کی بنیاد سے ہے نا کہ واللہ تعال کے نزدیک ویو ال اسباب ٹھہریں اور اس کی آواز کو اور اس کے احکام کو اور احکام کی مکتوں کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں اور ان قدوسیوں کے گروہ میں شامل ہوں کہ جن پراللہ تعالی کے ہرآن فضل ہوتے رہتے ہیں اگرچہ مومنصوبہ اسکی میں نجات کے سامنے رکھوں گا اس کا اصل مقصد ان نوجوانوں کی تربیت ہے جن کی عمر اگر وہ احمدیت میں پیدا ہوئے ہیں تو ابھی ۲۵ سال تک کی ہے۔یا اُن کی عمر اگر وہ جماعت میں نئے داخل ہونے والے ہیں تو ہا سال کی ہے۔لیکن اس تربیت کے لیے جو ان بچوں کی