حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 59 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 59

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات چند سال ہوئے مجھے ایک مکان کی تعمیر کے لئے روپیہ کی ضرورت پیش آئی میں نے اندازہ کرایا تو مکان کے لئے اور اس وقت کی بعض ضروریات کے لئے دس ہزار روپیہ درکار تھا۔میں نے خیال کیا کہ جائیداد کا کوئی حصہ پیچ دوں یا کسی سے قرض لوں اتنے میں ایک دوست کی چٹھی آئی کہ میں چھ ہزار روپیہ بھیجتا ہوں اس کے بعد چار ہزار باقی رہ گیا ایک تحصیلدار دوست نے لکھا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہمیں دس ہزار روپیہ کی ضرورت تھی اس میں سے چھ ہزار تو مہیا ہو گیا ہے باقی چار ہزار تم بھیج دو مجھے تو اس کا کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آیا اگر آپ کو کوئی ذاتی ضرورت یا سلسلہ کے لئے درپیش ہو تو میرے پاس چار ہزار روپیہ جمع ہے میں وہ بھیج دوں۔میں نے انہیں لکھا کہ واقعی صورت تو ایسی ہی ہے بعینہ اسی طرح ہوا ہے۔گو یا ضرورت مجھے تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے منہ سے کہلوانے کی بجائے اس دوست کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منہ سے کہلوادیا۔نہ اسے علم تھا کہ مجھے دس ہزار کی ضرورت ہے اور یہ کہ اس میں سے کسی نے چھ ہزار بھیج دیا ہے اور اب صرف چار ہزار باقی ہے اور نہ مجھے علم تھا کہ اس کے پاس روپیہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے خود ہی تمام اس کے لئے انتظام فرما دیا۔تو بعض اوقات ایسے مواقع اللہ تعالیٰ خود ہی بہم پہنچا دیتا ہے۔اس کے خاص بندوں کے لئے یہ صورت عام ہوتی ہے اور عام بندوں کے لئے شاذ کے طور پر لیکن سب ہی کے لئے حقیقی نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔( الفضل 11 جولائی 1939 صفحہ 4 ) (سوانح فضل عمر جلد پنجم ص 64،63)۔59