حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 27 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات حضرت مولاناکیم نورالدین صاحب بھیروی خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ 26 رمئی 1908ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد اگلے روز 27 رمئی کو آپ آپ علیہ السلام کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے اچھے دوست ،سب سے بڑے عاشق سب سے زیادہ پسندیدہ ، سب سے زیادہ مطیع و فرمانبردار ، سب سے زیادہ مالی قربانی کرنے والے، سب سے بڑے معین و مددگار تھے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جب دعویٰ ماموریت فرمایا تو آپ ہمیشہ یہ دُعا کرتے تھے یا رب من انصاری یا رب من انصاری۔یعنی اے میرے رب اس عظیم کام میں جو تو نے میرے سپر د کیا ہے کون میری مدد کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے کشمیر سے حضرت مولا نا حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ جیسا عظیم انسان بھیج دیا۔یہ امر بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔” جب سے میں اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے مامور کیا گیا ہوں اور حتی و قیوم کی طرف سے زندہ کیا گیا ہوں دین کے چیدہ مددگاروں کی طرف شوق کرتا رہا ہوں اور وہ شوق اس شوق سے بڑھ کر ہے جو ایک پیاسے کو پانی کی طرف ہوتا ہے اور میں رات دن خدا تعالیٰ کے حضور چلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اے میرے رب! میرا کون ناصر و مددگار ہے۔میں تنہا اور ذلیل ہوں۔پس جبکہ دعا کا ہاتھ 27