حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 26
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات خواجہ کمال الدین صاحب سے میں نے سنا ہے کہ مولوی کرم دین بھیں والے کے مقدمہ کے دوران میں ایک دفعہ حضرت صاحب بٹالہ کے رستے گورداسپور کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے ساتھ رتھ میں خود خواجہ صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب مرحوم تھے اور باقی لوگ یگوں میں پیچھے آرہے تھے۔اتفاقاً یکے کچھ زیادہ پیچھے رہ گئے اور رتھ اکیلی رہ گئی۔رات کا وقت تھا آسمان ابرآلود تھا اور چاروں طرف سخت اندھیرا تھا۔جب رتھ وڈالہ سے بطرف بٹالہ آگے بڑھا تو چند ڈاکو گنڈا سوں اور چھریوں سے مسلح ہو کر راستہ میں آگئے اور حضرت صاحب کی رتھ کو گھیر لیا اور پھر وہ آپس میں یہ تکرار کرنے لگ گئے کہ ہر شخص دوسرے سے کہتا تھا کہ تو آگے ہو کر حملہ کر مگر کوئی آگے نہ آتا تھا اور اسی تکرار میں کچھ وقت گذر گیا اور اتنے میں پچھلے لگے آن ملے اور ڈاکو بھاگ گئے۔قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ خواجہ صاحب بیان کرتے تھے کہ اس وقت یعنی جس وقت ڈا کو حملہ کر کے آئے تھے میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کی پیشانی سے ایک خاص قسم کی شعاع نکلتی تھی جس سے آپ کا چہرہ مبارک چمک اٹھتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قادیان اور بٹالہ کی درمیانی سڑک پر اکثر چوری اور ڈاکہ کی وارداتیں ہو جاتی ہیں مگر اس وقت خدا کا خاص تصرف تھا کہ ڈاکوخود مرعوب ہو گئے اور کسی کو آگے آنے کی جرات نہیں ہوئی۔قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ واقعہ خواجہ صاحب سے انہی دنوں میں بمقام پشاور سنا تھا۔( سیرۃ المہدی جلد اول حصہ دوم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ 433 روایت نمبر 454) 26 26