حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 94
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات بیماری میں کمزوری کے باوجود کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے رہے۔آخری بیماری کے دوران شدید کمزوری کے باوجود آپ جس طرح سہارا لے کر اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتے ہوئے بیوت الذکر ( مساجد۔ناقل ) میں نماز پڑھانے کے لئے تشریف لاتے اسے تو جماعت کبھی بھی بھلا نہیں سکتی۔آپ کبھی بھی نماز کو قضا نہیں ہونے دیتے تھے۔حضور حضر میں ہوتے اور موسم خواہ سرد ہوتا یا گرم، بارش ہورہی ہوتی یا برف باری کا سماں ہوتا تو آپ کسی بھی قسم کی پرواہ کئے بغیر ہمیشہ خانہ خدا میں ہی جا کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔سفروں میں نماز پڑھنے کا حال بھی سن لیں۔ناروے کے ایک سفر کے دوران ہم نے انتہائی سردی میں بحری جہاز کے کھلے ڈیک پر بھی آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہوئی ہے اور اسی طرح سخت گرمی اور مچھروں کی یلغار کے وقت الا سکا میں بھی نماز پڑھی ہوئی ہے۔یورپ کے سفروں میں سڑک کے کنارے مناسب جگہ دیکھ کر نمازوں کے لئے رکنے کی ہدایت تو ہمیشہ جاری رہی۔آپ کبھی نماز کو قضاء نہیں ہونے دیتے تھے۔آپ کی زندگی تو قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة کا نمونہ تھی کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔“ (ماہنامہ تحریک جدید سید ناطاہر نمبر صفحہ 56) آپ کی عبادت الہی اور شوق نماز کا ایک دلچسپ واقعہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔مجھے وہ لمحہ بہت پیارا لگتا ہے جو ایک مرتبہ لندن میں New Year's day کے موقع پر پیش آیا۔یعنی اگلے روز نیا سال چڑھنے والا تھا اور عید کا سماں تھا۔رات کے بارہ بجے سارے لوگ ٹریفا لگر سکوائر (Trafalgar Square) میں اکھٹے ہوکر دنیا جہان کی بے حیائیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔کیونکہ جب رات کے بارہ بجتے ہیں تو پھر وہ یہ 94